امریکہ کے انسداد دہشت گردی سینٹر کے ڈائریکٹر جو کینٹ نے ایران کے خلاف حملے پر احتجاجا مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔
سوشل میڈیا پر اپنے استعفے کے اعلان میں جو کینٹ نے کہا کہ ’اپنے ضمیر کے خلاف جا کر ایران میں جاری جنگ کی حمایت نہیں کر سکتا۔‘
امریکی سینیٹ نے گزشتہ جولائی میں صدر ٹرمپ کی جانب سے اس عہدے کے لیے جو کینٹ کو نامزد کیے جانے کے بعد ان کی تقرری کی منظوری دی تھی۔
ٹرمپ کے نام اپنے استعفے کے خط میں جو کینٹ نے لکھا کہ ’ایران نے ہمارے ملک کے لیے کوئی فوری خطرہ پیدا نہیں کیا تھا، اور یہ واضح ہے کہ ہم نے یہ جنگ اسرائیل اور اس کے طاقتور امریکی لابی کے دباؤ کے تحت شروع کی۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ وہ ان اقدار اور خارجہ پالیسیوں کی حمایت کرتے ہیں جن پر ٹرمپ نے 2016، 2020 اور 2024 کی انتخابی مہم چلائی اور اپنی پہلی مدتِ صدارت میں نافذ کیں۔
کینٹ نے لکھا کہ ’جون 2025 تک آپ سمجھتے تھے کہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگیں ایک جال ہیں جو امریکہ کے محبِ وطن جوانوں کی قیمتی جانیں چھینتی ہیں اور ہمارے ملک کی دولت و خوشحالی کو ختم کرتی ہیں۔‘
انھوں نےلکھا کہ ’ میں ایک تجربہ کار سپاہی کے طور پر گیارہ بار محاذ جنگ پر گیا اور ایک ’گولڈ سٹار شوہر‘ جس نے اپنی شریک حیات شینن کو اسرائیل کی جھونکی جنگ میں کھو دیا۔‘
انھوں نے لکھا ’میں اس بات کی حمایت نہیں کر سکتا کہ اگلی نسل کو ایسی جنگ میں دھکیلا جائے جس کا امریکی عوام کو کوئی فائدہ نہیں اور جس کی قیمت امریکی جانوں سے ادا کی جائے۔‘
Share this content:


