بلوچستان کے ایران سے متصل ضلع کیچ میں اغوا کیے گئے پنجاب و خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے 6 افراد کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔ مقامی پولیس کے مطابق تمام افراد کو گولیاں مار کر قتل کیا گیا۔
پولیس کے مطابق 6 افراد کی لاشیں ضلع کیچ کے ہیڈکوارٹر تربت کے قریب ناصر آباد کے علاقے سے ملیں۔ اطلاع ملنے پر لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے ٹیچنگ ہسپتال تربت منتقل کر دیا گیا۔
محکمہ داخلہ بلوچستان کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ وہ مزدور ہیں جنھیں دو روز قبل تربت کے قریب کلاتک کے علاقے سے اغوا کیا گیا تھا۔
ان کے مطابق مجموعی طور پر سات مزدوروں کو اغوا کیا گیا تھا، جن میں سے ایک کو اغوا کے فوراً بعد قتل کر دیا گیا تھا، جبکہ باقی 6 افراد کی لاشیں آج برآمد ہوئیں۔
بابر یوسفزئی نے کہا کہ ہلاک ہونے والے افراد میں سے چار کا تعلق پنجاب اور دو کا تعلق خیبر پختونخوا سے ہے۔ انھوں نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
انھوں نے الزام عائد کیا کہ یہ کارروائی ایسے شرپسند عناصر نے کی ہے جو بیرونی سرپرستی میں بلوچستان کے امن و استحکام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے واقعے میں ملوث ملزمان کی گرفتاری اور انھیں انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائیں گے۔
دوسری جانب پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بلوچستان کے ضلع کیچ میں مسلح افراد کے ہاتھوں 6 افراد کے قتل کے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ایک بہیمانہ اور سفاکانہ کارروائی قرار دیا ہے۔
اپنے بیان میں محسن نقوی نے ہلاک ہونے والے مزدوروں کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں نے بے گناہ محنت کشوں کو نشانہ بنا کر نہ صرف قیمتی انسانی جانیں چھینی ہیں بلکہ بلوچستان کی ترقی اور مقامی روزگار پر بھی حملہ کیا ہے۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ ’فتنہ الہندوستان‘ سے تعلق رکھنے والے شدت پسند اب معصوم اور نہتے شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں، جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ انھوں نے کہا کہ چھ غیر مقامی مزدوروں کو بے دردی سے قتل کرنے والے عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں۔
Share this content:


