اسرائیل کا ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی کو نشانہ بنایا ہے۔ فوجی حکام کے مطابق کارروائی رات گئے کی گئی، تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ لاریجانی زخمی ہوئے یا ہلاک۔

اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے دعویٰ کیا ہے کہ لاریجانی کو ہلاک کر دیا گیا ہے، لیکن ایران کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق حملے کے وقت لاریجانی اپنے بیٹے کے ہمراہ ایک خفیہ اپارٹمنٹ میں موجود تھے۔

اسرائیلی فوج نے ایک علیحدہ بیان میں ایران کی نیم فوجی تنظیم بسیج فورس کے کمانڈر غلام رضا سلیمانی کو بھی ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

فوج کے مطابق سلیمانی چھ برس تک پاسدارانِ انقلاب سے منسلک اس ملیشیا کی قیادت کرتے رہے۔ ایرانی میڈیا نے اس حوالے سے کوئی خبر جاری نہیں کی۔

اسرائیل کے دعووں کے بعد ایرانی سرکاری میڈیا اور لاریجانی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر ایک ہاتھ سے لکھا ہوا پیغام سامنے آیا ہے، جس میں ایران کی بحریہ کے جنگجوؤں کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا ہے۔ اس پیغام پر وقت اور تاریخ درج نہیں۔

تاہم سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ یہ آج کا ہے۔ یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران میں امریکی آبدوز کے حملے میں ہلاک ہونے والے 84 ملاحوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا جا رہا ہے۔

علی لاریجانی ایران کی سیاست میں ایک بااثر شخصیت ہیں۔ وہ اگست 2025 میں صدر مسعود پزشکیان کی منظوری سے سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری مقرر ہوئے اور اس کونسل میں رہبرِ اعلیٰ کے نمائندے بھی ہیں۔

اس سے قبل وہ مئی 2008 سے مئی 2020 تک ایران کی پارلیمان کے اسپیکر رہے اور 2005 سے 2007 تک ایران کے چیف جوہری مذاکرات کار کے طور پر خدمات انجام دیں۔ لاریجانی کو ایران کی موجودہ قیادت میں ’معتدل قدامت پسند‘ سمجھا جاتا ہے۔

ان کے خاندان کے کئی افراد بھی ایرانی سیاست میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کے بھائی صادق لاریجانی مجمعِ تشخیصِ مصلحتِ نظام کے چیئرمین ہیں۔ علی لاریجانی نے 2021 اور 2024 کے صدارتی انتخابات میں کاغذات نامزدگی جمع کروائے تھے، لیکن کونسلِ نگہبان نے انہیں نااہل قرار دیا۔ چند روز قبل انہیں تہران میں یومِ القدس کی ریلی کے دوران عوام کے ساتھ دیکھا گیا تھا۔

Share this content: