صحافی سردار اویس پر سوشل میڈیا یلغار: ایک معمولی ویڈیو کو متنازع بنانے کے پیچھے کون؟

کاشگل نیوز خصوصی رپورٹ

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے شہر باغ سے تعلق رکھنے والے صحافی سردار اویس کے خلاف سوشل میڈیا پر تنقیدی ٹرینڈ کا آغاز ہوگیا ہے ۔اس کے پسِ پردہ حقائق کیا ہیں؟

16 مارچ، پیر کے روز، صحافی سردار اویس نے اپنے فیس بک وال پر ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں وہ سڑک کے کنارے سم (SIM) فروخت کرنے والے ایک شہری سے سوالات کرتے نظر آتے ہیں۔ وہ پوچھتے ہیں کہ آیا آپ کو اس طرح سڑک کے کنارے سم بیچنے کی اجازت ہے؟ اور یہ اجازت کس نے دی ہے؟

نوجوان نہایت شائستگی سے جواب دیتا ہے کہ اسے فرنچائز کی جانب سے اجازت دی گئی ہے، اور وہ بیٹھ کر بات کرنے کی پیشکش بھی کرتا ہے۔ تقریباً ڈیڑھ منٹ کی اس ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ نہ تو سردار اویس کی جانب سے اور نہ ہی سم فروش کی جانب سے کوئی سخت یا غیر مہذب رویہ اختیار کیا گیا۔

تاہم، ویڈیو کے شیئر ہوتے ہی سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث نے جنم لیا۔ کہیں سم فروش کو مظلوم بنا کر پیش کیا گیا، کہیں معاملے کو علاقائی رنگ دیا گیا، اور سردار اویس پر بے بنیاد الزامات کی بھرمار دیکھنے میں آئی۔ یہ صورتحال کئی سوالات کو جنم دے رہی ہے۔

ابھی یہ تحقیق ہونا باقی ہے کہ آیا سم فروش کو ضلع باغ کی انتظامیہ کی جانب سے کوئی باقاعدہ اجازت دی گئی تھی یا نہیں۔

سردار اویس کا بطور صحافی گزشتہ دو سالہ کام اور حالیہ تنقید

پاکستان زیرِ انتظام کشمیر میں جاری عوامی تحریک کو ابتدا میں جن صحافیوں نے کور کیا، ان میں سردار اویس بھی شامل رہے۔ انہوں نے بھرپور انداز میں اپنی ذمہ داریاں نبھائیں۔ ضلع باغ میں کرپشن کو بے نقاب کرنا ہو، واقعاتی رپورٹنگ ہو، جنگلات کی بے دریغ کٹائی کا مسئلہ ہو یا مظلوموں کی آواز بننا — سردار اویس دن رات کام میں مصروف رہے۔

اسی کام کی بدولت انہیں ضلع باغ میں خاصی شہرت بھی ملی، مگر اچانک ان کے خلاف سوشل میڈیا ٹرائل کا آغاز کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے۔

ایکسکلوسیو اسٹوریز، ریاستی بیانیہ اور زمینی حقائق

28 مئی 2025 کو راولاکوٹ کے علاقے حسین کوٹ میں ضلع باغ سے تعلق رکھنے والے دو سگے بھائیوں کو مبینہ جعلی پولیس مقابلے میں مار دیا گیا۔ ریاستی مؤقف یہ اختیار کیا گیا کہ وہ دہشت گرد تھے اور ان کا تعلق افغانستان کے ایک عسکری گروہ سے تھا، تاہم سوشل میڈیا پر اس بیانیے کو پذیرائی نہ مل سکی۔

اگلے روز ہزاروں افراد نے ان بھائیوں کے جنازے میں شرکت کی۔ سردار اویس نے اس موقع پر ایسے مناظر رپورٹ کیے جنہوں نے ریاستی بیانیے کو چیلنج کیا۔

اسی طرح، جب زر نوش اور جبران نسیم کی والدہ اپنا مؤقف لے کر باغ پریس کلب پہنچیں تو مبینہ سنسرشپ کے باعث پریس کلب کو بند کر دیا گیا، مگر سردار اویس نے اس خاتون کی آواز دنیا تک پہنچا کر مظلوم کا ساتھ دیا۔

21 ستمبر 2025 کو حکومت کی جانب سے عوامی حمایت ظاہر کرنے کے لیے پاکستان کے مختلف شہروں سے افراد کو لا کر ایک تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ ریاستی عوام حکومت سے مطمئن ہیں۔ سردار اویس نے اس عمل کو بے نقاب کیا، جس کے بعد انہیں ایک کالعدم تنظیم کی جانب سے دھمکی آمیز پیغامات بھی موصول ہوئے۔

29 ستمبر 2025 کو عوامی ایکشن کمیٹی کے مارچ کی لمحہ بہ لمحہ رپورٹنگ بھی انہوں نے کی۔

ایک افغان ٹھیکیدار کی مبینہ کرپشن کو سامنے لانا ہو یا بااثر شخصیات کے ساتھ اس کے تعلقات — سردار اویس نے اس پر بھی سوالات اٹھائے۔

جامعہ خواتین باغ کی عمارت کی ناقص تعمیر کے معاملے پر بھی وہ سب سے آگے رہے۔

سوشل میڈیا ٹرائل میں تیزی اور نئے سوالات

اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ ایک نسبتاً چھوٹے واقعے کو اچانک علاقائی رنگ دے کر اتنی تیزی سے پھیلانے کے پیچھے کیا عوامل کارفرما ہیں؟ کیا اس میں کسی بااثر حلقے کا کردار ہو سکتا ہے؟

وہ قلم کار جو ماضی میں اہم علاقائی مسائل پر خاموش رہے، آج اچانک اس معاملے پر متحرک کیوں نظر آ رہے ہیں؟

اس معاملے پر تحقیق کے بجائے متعلقہ فریقین کی خاموشی بھی کئی سوالات کو جنم دے رہی ہے۔

ریاستی بیانیہ اور وقتی رجحانات کا استعمال

کسی بھی خطے میں ریاست کی اولین ترجیح یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنا بیانیہ عوام پر مؤثر انداز میں نافذ کرے۔ اس کے لیے مختلف طریقے اپنائے جاتے ہیں، جن میں وقتی سوشل میڈیا رجحانات کو بطور ہتھیار استعمال کرنا بھی شامل ہے۔

سردار اویس ان چند آوازوں میں شمار ہوتے ہیں جو ریاستی بیانیے کے برعکس زمینی حقائق کو سامنے لاتے رہے ہیں۔ ایسے میں یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا موجودہ سوشل میڈیا ٹرینڈ ماضی کے حساب چکانے کی ایک کڑی تو نہیں؟

٭٭٭

Share this content: