2025 میں بچوں سے زیادتی کے 3,600 سے زائد کیسز رپورٹ، روزانہ 9 سے زیادہ بچے متاثر

کاشگل نیوز خصوصی رپورٹ

پاکستان میں بچوں کے تحفظ سے متعلق کام کرنے والی ایک تنظیم کی تازہ رپورٹ نے تشویشناک صورتحال کی نشاندہی کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ سال 2025 کے دوران بچوں سے زیادتی کے کم از کم 3,630 واقعات رپورٹ ہوئے، جو 2024 کے مقابلے میں 8 فیصد زیادہ ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق ملک میں روزانہ اوسطاً 9 سے زائد بچے کسی نہ کسی نوعیت کی زیادتی کا شکار بنتے رہے۔

رپورٹ 81 قومی و علاقائی اخبارات میں شائع ہونے والے کیسز اور تنظیم کو موصول ہونے والی شکایات کے تجزیے پر مبنی ہے۔ تاہم ماہرین کے مطابق اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ کئی واقعات رپورٹ ہی نہیں ہو پاتے۔

صنفی اور عمر کے لحاظ سے صورتحال
رپورٹ کے مطابق متاثرین میں 53 فیصد (1,924) لڑکیاں جبکہ 45 فیصد (1,625) لڑکے شامل تھے، جو اس عام تاثر کی نفی کرتا ہے کہ صرف لڑکیاں ہی نشانہ بنتی ہیں۔ مزید 116 کیسز شیرخوار بچوں سے متعلق تھے، جو کم عمر بچوں کی غیر محفوظ صورتحال کو ظاہر کرتے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق 11 سے 15 سال کی عمر کے بچے سب سے زیادہ متاثر ہوئے، جبکہ اس عمر کے لڑکوں میں کیسز کی شرح لڑکیوں سے زیادہ رہی۔

طلبہ اور کمزور طبقات زیادہ متاثر
متاثرین میں طلبہ سب سے بڑا گروپ رہے، جن سے متعلق 417 کیسز سامنے آئے۔ اس کے علاوہ چائلڈ لیبر سے وابستہ 72 اور خصوصی ضروریات کے حامل بچوں کے 46 کیسز بھی رپورٹ ہوئے۔

جنسی زیادتی نمایاں وجہ
کل کیسز میں سے 2,003 (55 فیصد) جنسی زیادتی سے متعلق تھے۔ ان میں 596 جنسی زیادتی اور 522 عصمت دری کے واقعات شامل ہیں، جبکہ 238 کیسز اجتماعی زیادتی کے بھی ریکارڈ کیے گئے۔

زیادتی کرنے والے کون؟
رپورٹ کے مطابق زیادہ تر واقعات میں ملزمان متاثرہ بچوں کے جاننے والے تھے۔ 1,667 کیسز میں ملزمان جاننے والے، 754 میں اجنبی، جبکہ دیگر میں مذہبی اساتذہ، دکاندار اور پڑوسی شامل تھے۔ کئی واقعات میں قریبی رشتہ داروں کے ملوث ہونے کا بھی انکشاف ہوا، جو گھریلو سطح پر بچوں کے تحفظ کے حوالے سے سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑھتے ہوئے یہ واقعات بچوں کے تحفظ کے نظام، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی اور معاشرتی رویوں پر فوری توجہ دینے کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہیں۔

٭٭٭

Share this content: