علی خامنہ ای ایران کو جوہری ہتھیاروں سے روک رہے تھے، ان کاقتل غلط تھا،جوکینٹ

امریکہ کے نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر کے سابق ڈائریکٹر جو کینٹ نے کہا ہے کہ ایران کے رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای کو ہلاک کرنے کا مشترکہ امریکی اسرائیلی فیصلہ ’’غلط‘‘ تھا کیونکہ خامنہ ای ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روک رہے تھے۔

جو کینٹ نے دو روز قبل ایران جنگ کے خلاف احتجاجاً استعفیٰ دیا تھا اور کہا تھا کہ وہ ’’اپنے ضمیر کے خلاف جا کر‘‘ اس جنگ کی حمایت نہیں کر سکتے۔

ٹکر کارلسن کو انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ خامنہ ای ایران کے جوہری پروگرام کو معتدل سطح پر رکھے ہوئے تھے اور ان کے قتل سے ایرانی عوام اور حکومت ’’مزاحمت کے لیے متحد‘‘ ہو گئے ہیں۔

کینٹ نے دعویٰ کیا کہ ایران پر حملے کا فیصلہ بنیادی طور پر اسرائیل کا تھا، امریکہ کا نہیں۔

ان کے مطابق ایران جوہری بم بنانے کے قریب نہیں تھا اور 2004 کا فتویٰ اب بھی جوہری ہتھیاروں کی ممانعت کرتا ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق ایف بی آئی نے جو کینٹ کے خلاف خفیہ معلومات افشا کرنے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

صدر ٹرمپ نے ان کے استعفے پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ کینٹ ’’سکیورٹی کے معاملے میں کمزور‘‘ تھے اور ایران ’’حقیقی خطرہ‘‘ تھا۔

وائٹ ہاؤس نے بھی کینٹ کے الزامات کو ’’توہین آمیز‘‘ قرار دیا اور کہا کہ صدر کے پاس ایران کے ممکنہ حملے کے ’’قابلِ اعتماد شواہد‘‘ موجود تھے۔

اپنے استعفیٰ میں کینٹ نے لکھا کہ ایران نے امریکہ کے لیے کوئی فوری خطرہ پیدا نہیں کیا تھا اور جنگ ’’اسرائیلی دباؤ‘‘ کے تحت شروع کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ وہ ایک ایسے تنازع کی حمایت نہیں کر سکتے جس میں ’’امریکی جانیں ضائع ہوں اور عوام کو کوئی فائدہ نہ ہو‘‘۔

کینٹ سابق فوجی اور سی آئی اے کے اہلکار رہ چکے ہیں، جبکہ ان کی اہلیہ 2019 میں شام میں ایک حملے میں ہلاک ہوئی تھیں۔

Share this content: