دشمن کے اندازے غلط ثابت ہوئے،حملوں کے باوجود مزاحمت جاری رہے گی، مجتبیٰ خامنہ ای

ایران کے تیسرے رہبر اعلی مجتبیٰ خامنہ ای نے نوروز کے تہوار کے موقع پر ایک تحریری پیغام جاری کیا ہے جسے آج سرکاری ٹی وی پر پڑھ کر سنایا گیا۔ ان کا یہ پیغام نو صفحات پر مشتمل ہے۔

ایرن کے نئے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے امریکہ اور اسرائیل کے خلاف جاری جنگ کے آغاز کے تین ہفتے بعد اپنے بیان میں کہا ہے کہ دشمن یہ سمجھتا تھا کہ اعلیٰ قیادت کو ختم کر کے حکومت کو گرا دیا جائے گا، مگر یہ ایک غلط فہمی ثابت ہوئی۔

انہوں نے ایرانی عوام کی مزاحمت کو سراہتے ہوئے کہا کہ پورے ملک میں دفاعی محاذ مضبوط ہو چکا ہے جس نے ’’دشمن کو حیران‘‘ کر دیا ہے۔

اس پیغام میں ان کا کہنا ہے کہ ایران اس سال اب تک تین جنگوں سے گزر چکا ہے، ایک جون میں اسرائیل کے خلاف، دوسری موجودہ جنگ اور تیسری جنگ پچھلے سال دسمبر میں اسٹیبلشمنٹ مخالف مظاہرے۔

انھوں نے اسٹیبلشمنٹ کی حمایت میں ریلیوں میں شرکت کرنے والوں کی تعریف کی اور کہا کہ عوام نوروز مناتے ہوئے ان کے والد آیت اللہ علی خامنہ ای کو یاد رکھیں۔

ایرانی رہبر اعلیٰ نے اپنے والد کی ہلاکت کو ’شہادت‘ قرار دیا۔ مجتبی خامنہ ای نے اس سال کا نعرہ بھی پیش کیا ہے: ’قومی یکجہتی اور قومی سلامتی کے سائے میں مزاحمتی معیشت‘۔

ایران کے پڑوسی ممالک کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ایران اپنے مشرقی پڑوسیوں کو ’بہت قریب سے‘ سمجھتا ہے۔ انھوں نے پاکستان کا نام لے کر کہا کہ یہ ملک ان کے والد کا ’خاص پسندیدہ‘ تھا۔

خامنہ ای نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان بہتر تعلقات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی طرف سے ’ضروری اقدامات کرنے کے لیے تیار‘ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کا مقصد مسلمانوں کے درمیان تقسیم کو ختم کرنا ہے۔

جنگ کے دوران پڑوسی ممالک پر ہونے والے حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں نے دعویٰ کیا کہ ایرانی مسلح افواج نے ترکی اور عمان پر حملے نہیں کیے۔

انھوں نے اسرائیل پر الزام لگایا کہ اس نے ایران اور اس کے پڑوسیوں کے درمیان دوریاں پیدا کرنے کے لیے ’چال چلی ہے۔‘

یہ انداز ان کے والد آیت اللہ علی خامنہ ای کے روایتی نوروز پیغامات سے واضح طور پر مختلف ہے جو ہمیشہ کیمرے کے سامنے پیغام دیا کرتے تھے۔

مجتبیٰ خامنہ ای کو اس ماہ کے آغاز میں اپنے والد کا جانشین منتخب کیا گیا تھا۔ وہ اب تک نہ تو عوام کے سامنے آئے ہیں اور نہ ہی انھیں فلمایا یا فوٹوگراف کیا گیا ہے۔

اب تک ان کے کئی تحریری پیغامات ایرانی میڈیا میں شائع کیے جا چکے ہیں۔

Share this content: