ٹرمپ کا ایران سے تعمیری بات چیت اور 5 دن کیلئے حملے مؤخر کرنے کا دعویٰ، ایران کی تردید

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے ’’مکمل اور جامع حل‘‘ کے لیے گزشتہ دو دنوں کے دوران ایران کے ساتھ ’’نہایت مثبت، نتیجہ خیز اور تعمیری بات چیت‘‘ ہوئی ہے، اور اسی پیش رفت کے باعث امریکہ نے ایران کے بجلی گھروں اور توانائی کی تنصیبات پر حملوں کو پانچ روز کے لیے مؤخر کر دیا ہے۔ تاہم ایران نے ان تمام دعوؤں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان کسی قسم کی کوئی بات چیت نہیں ہو رہی۔

ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا کہ انہوں نے محکمہ جنگ کو ہدایت دی ہے کہ ایران پر تمام فوجی حملے پانچ دن کے لیے روک دیے جائیں، جو جاری مذاکرات کی کامیابی سے مشروط ہوں گے۔ بعد ازاں اے ایف پی سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ ’’صورتِ حال ایران کے ساتھ بہت اچھی جا رہی ہے‘‘۔

تاہم ٹرمپ کے بیان کے فوراً بعد ایرانی وزارتِ خارجہ نے اعلان کیا کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان نہ کوئی رابطہ ہوا ہے اور نہ ہی کوئی بات چیت جاری ہے۔ ایران کے مطابق امریکی صدر کے یہ بیانات ’’توانائی کی قیمتوں کو نیچے لانے‘‘ اور ’’اپنے فوجی منصوبوں کے لیے وقت حاصل کرنے‘‘ کی کوشش ہیں۔ ٹرمپ کے اعلان کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی اور مالیاتی منڈیوں میں بہتری دیکھی گئی۔

پالم بیچ میں ایئر فورس ون پر سوار ہونے سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ پانچ دن کا وقفہ کر رہا ہے تاکہ دیکھا جا سکے کہ بات چیت کس سمت جاتی ہے۔ ان کے مطابق ’’اگر یہ درست سمت میں گئی تو ہم مسئلہ طے کر لیں گے، اور اگر نہیں تو ہم پوری طاقت سے بمباری جاری رکھیں گے‘‘۔

ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران ممکنہ طور پر امن کے بدلے اپنے جوہری پروگرام سے دستبردار ہونے پر راضی ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ ایران کے سب سے بڑے بجلی گھر کو نشانہ بنانے والا تھا، مگر بات چیت کے باعث کارروائی مؤخر کی گئی۔

امریکی صدر کے مطابق دونوں ممالک جنگ کے خاتمے کے لیے 15 نکات پر بات کر رہے ہیں، جن میں ایران کا جوہری ہتھیاروں سے دستبردار ہونا ’’پہلا، دوسرا اور تیسرا‘‘ نکتہ ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ ’’نظام میں ایک سنجیدہ تبدیلی‘‘ دیکھنا چاہتے ہیں۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکہ نے ایران کے ’’ایک اعلیٰ شخص‘‘ سے بات کی ہے، لیکن نئے رہبرِ اعلیٰ سے نہیں، اور یہاں تک کہا کہ ’’ہم نہیں جانتے کہ وہ زندہ ہیں یا نہیں‘‘۔

ایران کی جانب سے مکمل تردید کے باوجود ٹرمپ اپنے مؤقف پر قائم ہیں کہ بات چیت ’’بہت مضبوط‘‘ رہی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان ’’اہم متفقہ نکات‘‘ موجود ہیں۔

دوسری جانب پاسدارانِ انقلاب سے منسلک فارس نیوز نے ایک نامعلوم ایرانی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ٹرمپ کے ساتھ ’’کوئی بلاواسطہ یا بالواسطہ رابطہ نہیں‘‘ ہوا۔ ذرائع کے مطابق جب امریکی صدر کو یہ اطلاع ملی کہ ایران کے اہداف میں ’’مغربی ایشیا کے تمام بجلی گھر‘‘ شامل ہو سکتے ہیں تو انہوں نے پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کیا۔

ایران کا کہنا ہے کہ خطے میں جاری ثالثی کی کوششوں کے باوجود تہران وہ فریق نہیں جس نے جنگ شروع کی، اس لیے تمام درخواستیں واشنگٹن کو بھیجی جانی چاہئیں۔ ایران نے ٹرمپ کے تمام بیانات کو ’’بے بنیاد‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کسی قسم کی کوئی بات چیت نہیں ہو رہی۔

Share this content: