ایران کی جانب سے مذاکرات سے انکار کے بعد تیل کی قیمتوں میں اضافہ

ایران کی جانب سے امریکہ کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات سے انکار کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

بدھ کو ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا تھا کہ دوست ممالک نے امریکی تجاویز بھجوائی ہیں، تاہم یہ کوئی مذاکرات یا گفت و شنید نہیں ہے۔

بدھ کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی کہا کہ ایران کے رہنما یہ تسلیم کرنے سے ’ڈرتے‘ ہیں کہ وہ بات چیت کر رہے ہیں۔

اس دوران برینٹ کروڈ آئل کی قیمت 1٫6 فیصد اضافے کے ساتھ 103٫85 ڈالرز تک پہنچ گئی ہے۔ جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ 1.4 فیصد اضافے کے ساتھ 91.61 ڈالر پر کی سطح پر ہے۔

اسی طرح امریکی محکمہ ڈاک نے جنگ کی وجہ سے ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے پیشِ نظر پہلی مرتبہ آٹھ فیصد عارضی فیول سرچارج عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔

محکمہ ڈاک کے مطابق اس اقدام کا مقصد مارکیٹ کے حالات کے مطابق ادارے کو ڈھالنا اور مالی دباؤ کے بغیر ملک گیر سروسز جاری رکھنا ہے۔

محکمہ ڈاک کے مطابق اس اضافے کا اطلاق صرف پیکجز پر ہو گا جبکہ صرف خطوط پر یہ لاگو نہیں ہو گا۔ اس فیس کا اطلاق ترجیحی میل اور زمینی سروس جیسی خدمات کی بنیادی قیمت پر کیا جائے گا۔

یہ اضافہ 26 اپریل سے نافذ العمل ہوگا اور 17 جنوری 2027 تک جاری رہے گا۔ اس کے بعد، امریکی پوسٹل سروس فیصلہ کرے گی کہ آیا کسی اور طویل مدتی حل کی ضرورت ہے۔

امریکی پوسٹل سروس (یو ایس پی ایس) ہفتے میں 17 کروڑ سے زائد پارسلز کی ترسیل کرتی ہے، اس کے مطابق دیگر پوسٹل سروسز نے بہت پہلے ہی اضافی سرچارج لگا دیا تھا۔ تاہم یہ باقی کمپنیوں کے مقابلے میں بہت کم ہے، جنھوں نے اس مد میں 33 فیصد سرچارج لگایا ہے۔

Share this content: