مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران ابوظہبی، اسرائیل اور ایران–امریکہ محاذ پر صورتِ حال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔
ابوظہبی کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ ایک میزائل کا ملبہ گرنے سے دو افراد ہلاک اور تین زخمی ہوئے، جبکہ متعدد گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔ حکام کے مطابق ایران اب تک متحدہ عرب امارات پر 2100 سے زائد میزائل اور ڈرون حملے کر چکا ہے، جن میں سے زیادہ تر کو روک لیا گیا ہے، تاہم معلومات تک رسائی میں شدید رکاوٹیں موجود ہیں۔ حملوں کی تصاویر یا ویڈیوز بنانے پر اب تک 100 سے زائد افراد گرفتار کیے جا چکے ہیں۔
برطانیہ نے اپنے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ اماراتی حکومت پر تنقید کرنے والا مواد پوسٹ کرنا بھی غیر قانونی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ کسی بھی ممکنہ بات چیت میں اس کے میزائل اور ڈرون پروگرام پر طویل المدتی پابندی ضروری ہے، جبکہ ایرانی حملوں نے امارات کو واشنگٹن کے ساتھ اپنے سکیورٹی تعلقات مزید مضبوط کرنے پر مجبور کیا ہے۔
اسی دوران اسرائیل کی ایمرجنسی سروس میگن ڈیوڈ ایڈوم نے بتایا کہ وسطی اسرائیل پر میزائل حملے کے بعد چھ افراد زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کیے گئے۔ کفر قاسم شہر میں کئی گھروں کو نقصان پہنچا۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ یہ میزائل ایران کی جانب سے داغے گئے تھے۔
متحدہ عرب امارات نے بھی اعلان کیا ہے کہ بیلسٹک میزائلوں کو روکنے کے لیے فضائی دفاعی نظام تعینات کیا جا رہا ہے، جبکہ لڑاکا طیارے ڈرونز کو مار گرانے کے لیے فضا میں موجود ہیں۔ بدھ کی رات سے وزارت دفاع کی جانب سے یہ تیسرا انتباہ جاری کیا گیا ہے۔
اسی تناظر میں ایران اور امریکہ کے درمیان بیانیاتی جنگ بھی شدت اختیار کر گئی ہے۔
ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ کے دوران انہوں نے ایک امریکی ایف-18 لڑاکا طیارہ چابہار کے قریب مار گرایا ہے اور اس کی ویڈیو بھی جاری کی۔ تاہم امریکی سینٹرل کمانڈ نے اس دعوے کی فوری تردید کرتے ہوئے کہا کہ یہ خبر درست نہیں۔
خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، میزائل حملوں کا پھیلاؤ اور ایران–امریکہ بیانات نے اس بات کا خدشہ بڑھا دیا ہے کہ جنگ کے اثرات مزید ممالک تک پھیل سکتے ہیں، جبکہ امارات اور اسرائیل میں ہونے والے تازہ حملے اس عدم استحکام کو مزید نمایاں کر رہے ہیں۔
Share this content:


