امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قوم سے خطاب میں ایران کے جوہری پروگرام، جاری جنگ، خلیجی صورتحال اور امریکی فوجی کارروائیوں پر تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے تہران کی موجودہ قیادت کو ’’غنڈہ گرد اور قاتل‘‘ قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ ایران گزشتہ 47 برسوں سے دہشت گرد حملوں اور خطے میں عدم استحکام کا ذمہ دار رہا ہے، اور ایسے رہنماؤں کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
ٹرمپ نے ایران میں حالیہ مظاہروں کے خلاف کریک ڈاؤن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہزاروں شہری مارے گئے، اور یہ ثابت کرتا ہے کہ ایران کی موجودہ حکومت عالمی امن کے لیے خطرہ ہے۔
انہوں نے کہا "میں کبھی ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کرنے دوں گا۔”
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کے ’’بہت قریب‘‘ تھا اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل تیزی سے تیار کر رہا تھا۔
جیسا کہ توقع کی جا رہی تھی، صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکہ ایران میں اپنے فوجی اہداف کی تکمیل کے قریب ہے اور جلد یہ مشن مکمل کر لیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ایران کی بحریہ، فضائیہ اور میزائل بنانے کی صلاحیت ’’تقریباً تباہ‘‘ کر دی گئی ہے۔
ٹرمپ نے جون 2025 میں کیے گئے حملے ’’آپریشن مڈنائٹ ہیمر‘‘ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دنیا نے اس جیسا آپریشن پہلے کبھی نہیں دیکھا۔
ان کے مطابق "ہم نے ایران کی جوہری تنصیبات کو مکمل طور پر تباہ کر دیا۔”
انہوں نے موجودہ کارروائی ’’آپریشن ایپک فیوری‘‘ کو امریکہ اور دنیا کی سلامتی کے لیے ضروری قرار دیا۔
ٹرمپ نے بڑھتی ہوئی پیٹرول کی قیمتوں کا ذمہ دار بھی ایران کو ٹھہرایا اور کہا کہ خلیج میں توانائی کی ترسیل میں رکاوٹیں ایران کی دھمکیوں کا نتیجہ ہیں۔
انہوں نے مشرقِ وسطیٰ سے تیل لینے والے ممالک پر زور دیا کہ وہ آبنائے ہرمز کی حفاظت کے لیے آگے آئیں۔
ٹرمپ نے کہا "جنہیں تیل چاہیے، وہ امریکی تیل خریدیں۔”
خطاب کے دوران وائٹ ہاؤس میں اعلیٰ فوجی قیادت موجود تھی، جن میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین، وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ اور وزیر خارجہ مارکو روبیو شامل تھے۔
ٹرمپ نے ایران کے خلاف جنگ کو ’’امریکی بچوں اور آنے والی نسلوں کے لیے حقیقی سرمایہ کاری‘‘ قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ تنازع صرف 32 دنوں سے جاری ہے اور امریکہ پہلے سے کہیں زیادہ محفوظ اور مضبوط ہے۔
خطاب کے اختتام پر انہوں نے جنگ میں ہلاک ہونے والے 13 امریکی فوجیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور کہا کہ ’’مشن مکمل کرنا ہی ان کے لیے اصل خراج ہوگا۔‘‘
Share this content:


