پاکستان میں 2026 کی پہلی سہ ماہی کے دوران مجموعی طور پر دہشت گردی سے متعلق تشدد میں کمی ریکارڈ کی گئی، تاہم بلوچستان میں صورتحال انتہائی تشویشناک ہو گئی ہے جہاں ہلاکتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا۔
سنٹر فار ریسرچ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز (CRSS) کی رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں تشدد کے واقعات میں 104 فیصد اضافہ ہوا، اور ہلاکتوں کی تعداد 217 سے بڑھ کر 443 تک پہنچ گئی، جو گزشتہ 13 برسوں کی بلند ترین سطح ہے۔
رپورٹ کے مطابق بلوچستان اور خیبر پختونخوا اس عرصے میں تشدد کے مرکزی علاقے رہے، تاہم جہاں خیبر پختونخوا میں ہلاکتوں میں نمایاں کمی آئی، وہیں بلوچستان میں شدت میں مسلسل اضافہ دیکھا گیا۔
اعداد و شمار کے مطابق پاکستان بھر میں ہونے والی کل ہلاکتوں کا 55 فیصد صرف بلوچستان میں ہوا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ صوبہ اس وقت سیکیورٹی کے شدید بحران کا شکار ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شدت پسند گروہوں کی حکمت عملی میں تبدیلی آئی ہے، جس میں جدید ہتھیاروں، دھماکہ خیز مواد اور ڈرون ٹیکنالوجی کا بڑھتا ہوا استعمال شامل ہے۔ ان ہتھکنڈوں نے حملوں کو زیادہ مہلک بنا دیا ہے۔
مزید برآں، تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بلوچ علیحدگی پسند تنظیموں کی سرگرمیوں میں اضافہ بھی تشدد میں اضافے کی ایک بڑی وجہ قرار دیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اگرچہ ملک کے دیگر حصوں میں مجموعی تشدد میں کمی دیکھی گئی، لیکن بلوچستان میں بڑھتی ہوئی بدامنی اس کمی کو متاثر کر رہی ہے اور یہ رجحان مستقبل کے لیے ایک سنگین خطرے کی علامت ہے۔
واضح رہے کہ بلوچ لبریشن آرمی کی جانب سے گزشتہ سال جعفر ایکسپریس ہائی جیکنگ اور رواں سال آپریشن ہیروف دوئم کے بعد سے سیکیورٹی صورتحال مزید ابتر ہو چکی ہے جبکہ پاکستانی فورسز مسلسل بی ایل اے کے مربوط حملوں کا نشانہ بن رہی ہیں۔
رواں ہفتے بھی بلوچستان میں پاکستانی فورسز اور سرکاری املاک کو نشانہ بنایا گیا، اور یہ سلسلہ تاحال جاری رہا جس میں بڑے پیمانے فورسز کو جانی و مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
Share this content:


