عالمی بینک کا امریکہ ایران جنگ کے معاشی اثرات پر ’گہری تشویش‘ کا اظہار

عالمی بینک کے ڈائریکٹر جنرل پاسکل ڈونوہو نے بدھ کے روز فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے عالمی معیشت پر اثرات کے حوالے سے اپنے ’گہرے خدشات‘ کا اظہار کیا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب کئی ممالک پہلے ہی عالمی بحرانوں کی ایک طویل سلسلہ وار لہر کے باعث مشکل صورتحال سے دوچار ہیں۔

ڈونوہو نے کہا کہ ’ہمیں اس بات پر شدید تشویش ہے کہ اس جنگ کے نتیجے میں عالمی سطح پر مہنگائی، روزگار میں کمی اور غذائی قلت جیسے پہلے سے موجود مسائل میں مزید اضافہ ہوگا۔ تاہم ہماری کوشش اور تیاری جاری ہے کہ ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے فوری اور مناسب اقدامات کیے جائیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم کئی حکومتوں اور ممالک کے ساتھ ان کی ضروریات کو سمجھنے کے لیے مشاورت کر رہے ہیں اور مجھے توقع ہے کہ آنے والے ہفتوں میں ہمارے پاس مزید معلومات ہوں گی۔‘

عالمی بینک کو خاص طور پر اپنی موسمِ بہار میں ہونے والی میٹنگز جو 12 سے 17 اپریل کے دوران واشنگٹن میں ہوں گی کی مدد سے اس بات کا جائزہ لینا ہوگا کہ آنے والے وقت میں ہمیں کن مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔‘

ڈونوہو نے کہا کہ فی الحال ’ہم اس بات کا تعین کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ہمارے پاس کتنی رقوم دستیاب ہیں اور کن مُمالک کو اس میں شامل کیا جا سکتا ہے تاکہ مسائل کے شکار دیگر مُمالک کو ایران میں جنگ کے قلیل مدتی اثرات سے نمٹنے میں مدد دی جا سکے۔‘

Share this content: