پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر اس وقت ایک ایسے آئینی اور سیاسی خلا سے گزر رہا ہے جہاں ادارے تو موجود ہیں، مگر اختیار نہیں؛ نمائندگی تو ہے، مگر خود اختیاری نہیں۔ یہی وہ بنیادی تضاد ہے جس نے عوام کو بڑی سطح پر بے چین کر رکھا ہے اور محدود پیمانے پر طویل عرصے سے موجود مطالبہ اب اکثریتی عوام کا مطالبہ بنتا جا رہا ہے اور وہ مطالبہ ہے آئین ساز اسمبلی کا قیام۔
یہ مطالبہ ایک گہری سیاسی اور آئینی ضرورت کا اظہار ہے اور اسے سمجھنے کے لیے سب سے پہلے آئین ساز اسمبلی اور قانون ساز اسمبلی کے درمیان فرق کو واضح کرنا ہوگا۔
قانون ساز اسمبلی، جیسا کہ نام سے ظاہر ہے، ایک ایسا ادارہ ہوتا ہے جو پہلے سے موجود آئینی فریم ورک کے اندر رہتے ہوئے قوانین بناتا ہے۔ اس کے اختیارات محدود ہوتے ہیں، اس کی حدود متعین ہوتی ہیں، اور وہ کسی بالادست آئین یا ایکٹ کے تابع ہوتی ہے۔ پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر میں موجود اسمبلی بھی اسی نوعیت کی ایک باڈی ہے، جو ایک مخصوص قانونی ڈھانچے کے اندر رہ کر کام کرتی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب یہ ڈھانچہ خود ہی مکمل اختیار سے محروم ہو، تو اس کے اندر بننے والے قوانین بھی محض رسمی کارروائی بن کر رہ جاتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ یہاں ایک بنیادی ابہام بھی موجود ہے۔ پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر میں جو اسمبلی اس وقت موجود ہے، اسے رسمی طور پر تو “آئین ساز اسمبلی” کہا جاتا ہے، لیکن عملی طور پر نہ تو اسے ایک مکمل آئین ساز اسمبلی کے اختیارات حاصل ہیں اور نہ ہی یہ ایک خودمختار قانون ساز اسمبلی کے معیار پر پوری اترتی ہے۔ اس کے اختیارات ایک بالادست قانونی فریم ورک کے تابع ہیں، جس کے باعث یہ نہ تو آزادانہ طور پر آئینی خدوخال طے کر سکتی ہے اور نہ ہی مکمل قانون سازی کی خودمختاری رکھتی ہے۔ یوں یہ ایک ایسی محدود باڈی بن کر رہ گئی ہے جو نام اور حقیقت کے تضاد کی واضح مثال ہے۔
اس کے برعکس، آئین ساز اسمبلی ایک بالکل مختلف اور زیادہ بنیادی نوعیت کی نمائندہ باڈی ہوتی ہے۔ یہ صرف قوانین نہیں بناتی بلکہ ریاست کے پورے آئینی خدوخال طے کرتی ہے۔ یہ فیصلہ کرتی ہے کہ اقتدار کہاں سے آئے گا، کیسے استعمال ہوگا، اور عوام کو کیا بنیادی حقوق حاصل ہوں گے۔ آئین ساز اسمبلی کسی بالادست قانون کی پابند نہیں ہوتی بلکہ خود وہ بنیاد فراہم کرتی ہے جس پر پورا نظام کھڑا ہوتا ہے۔
یہی وہ نکتہ ہے جسے آج پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر کے عوام شدت سے محسوس کر رہے ہیں۔
جب ایک قانون ساز اسمبلی اپنی ہی حدود میں قید ہو، جب وہ بنیادی فیصلے کرنے کی مجاز نہ ہو، جب وہ محض ایک انتظامی ڈھانچے کا حصہ بن کر رہ جائے تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا وہ واقعی عوامی امنگوں کی ترجمان ہے یا صرف ایک ایسا ادارہ ہے جو ایک پہلے سے طے شدہ نظام کو برقرار رکھنے کے لیے موجود ہے؟
عوامی سطح پر آئین ساز اسمبلی کا مطالبہ دراصل اسی جمود کے خلاف ایک ردعمل ہے۔ یہ ایک ایسی کوشش ہے جس کے ذریعے لوگ اپنے سیاسی مستقبل کا تعین خود کرنا چاہتے ہیں، نہ کہ کسی مسلط شدہ فریم ورک کے اندر رہ کر۔ لیکن یہاں ایک اہم سوال بھی جنم لیتا ہے کہ کیا صرف مطالبہ ہی کافی ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ نہیں۔ آئین ساز اسمبلی کا مطالبہ نعروں، جلسوں یا وقتی بیانات تک تو ایک طویل مدت سے موجود ہے لیکن یہ اسی طرح محدود ہی رہا تو یہ بھی ماضی کے کئی مطالبات کی طرح تاریخ کے اوراق میں دب کر رہ جائے گا۔ اس مطالبے کو مؤثر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ اسے ایک منظم، واضح اور مسلسل عوامی بیانیے میں ڈھالا جائے۔
جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے اپنے حالیہ اجلاس منعقدہ ڈڈیال کے اعلامیے میں عوامی سطح پر اس طرف اشارہ دیا ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ اسے حقیقت کا روپ کیسے دیا جاتا ہے اب ضرورت اس امر کی ہے کہ سب سے پہلے، عوام کو یہ سمجھانا ہوگا کہ آئین ساز اسمبلی کوئی مبہم یا دور کی چیز نہیں بلکہ ان کے روزمرہ حقوق سے جڑی ہوئی حقیقت ہے ان کی زمین، ان کی شناخت، ان کی نمائندگی، اور ان کے مستقبل کا سوال ہے۔ جب تک یہ شعور عام نہیں ہوگا، مطالبہ اپنی طاقت منوانے میں کامیاب نہیں ہو سکے گا۔
دوسرا، اس مطالبے کو سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر ایک مشترکہ عوامی ایجنڈا بنایا جائے۔ اگر یہ کسی ایک جماعت، گروہ یا قیادت تک محدود رہا تو اس کی وسعت اور اثر کم ہو جائے گا۔ آئین ساز اسمبلی کا مطالبہ دراصل پوری آبادی کا مقدمہ ہے، اسے پیش بھی اسی سطح پر کیا جانا چاہیے۔
تیسرا، اس مطالبے کو محض ردعمل کے بجائے ایک متبادل ویژن کے طور پر پیش کیا جائے۔ یعنی یہ واضح کیا جائے کہ آئین ساز اسمبلی بننے کے بعد کیا ہوگا؟ کس نوعیت کا آئین درکار ہے؟ اختیارات کی تقسیم کیسے ہوگی؟ عوامی حقوق کی ضمانت کیسے دی جائے گی؟ جب تک یہ خاکہ سامنے نہیں آئے گا، مطالبہ ادھورا رہے گا۔
آج پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں جزوی اصلاحات یا محدود اختیارات کے ذریعے مسائل کا حل ممکن نہیں رہا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ بنیاد کو ہی ازسرنو تشکیل دیا جائے اور یہ کام صرف ایک آئین ساز اسمبلی ہی کر سکتی ہے۔
یہ وقت ہے کہ اس مطالبے کو وقتی سیاسی نعرے سے نکال کر ایک سنجیدہ، مربوط اور طاقتور عوامی تحریک میں بدلا جائے۔ کیونکہ تاریخ یہی سبق دیتی ہے کہ جو قومیں اپنے آئینی مستقبل کا تعین خود نہیں کرتیں، ان کے فیصلے دوسروں کے ہاتھوں میں چلے جاتے ہیں۔ اور اس خطے کے عوام خود ایک واضح مثال ہیں۔
آئین ساز اسمبلی کا مطالبہ دراصل خود اختیاری اور شناخت کا مطالبہ ہے، اور ایسے مطالبات کی تکمیل کے لیے صرف آواز ہی بلند نہیں کی جاتی، بلکہ مستقل مزاجی، فکری وضاحت اور اجتماعی قوت سے منوایا جاتا ہے۔
٭٭٭
Share this content:


