امریکہ اور ایران دو ہفتے کی جنگ بندی پر آمادہ، اسلام آباد میں مذاکرات جمعے سے شروع

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان کے وزیرِاعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی درخواست پر وہ ایران کے خلاف طے شدہ حملے کو دو ہفتوں کے لیے مؤخر کرنے پر آمادہ ہیں، بشرطیکہ ایران آبنائے ہرمز کو فوری اور محفوظ طریقے سے کھول دے۔

صدر ٹرمپ کے مطابق یہ اقدام ایک دو طرفہ جنگ بندی کا حصہ ہوگا، جس سے دونوں ممالک کو طویل المدتی امن معاہدے کو حتمی شکل دینے کا موقع ملے گا۔

ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ اپنے بیشتر فوجی اہداف حاصل کر چکا ہے اور ایران کی جانب سے پیش کردہ 10 نکاتی تجویز مذاکرات کے لیے قابلِ عمل بنیاد فراہم کرتی ہے۔

ان کے مطابق زیادہ تر اختلافی نکات پر پیش رفت ہو چکی ہے اور دو ہفتوں کی مہلت معاہدے کو مکمل کرنے میں مدد دے گی۔

منگل اور بدھ کی درمیانی رات 3:32 بجے صدر ٹرمپ کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جنگ بندی کا باضابطہ اعلان سامنے آیا۔

اس سے قبل وزیرِاعظم شہباز شریف نے تمام فریقین سے اپیل کی تھی کہ وہ سفارت کاری کو موقع دینے کے لیے دو ہفتوں کی جنگ بندی پر رضامند ہوں اور ایران سے درخواست کی تھی کہ وہ نیک نیتی کے طور پر آبنائے ہرمز کھول دے۔

پاکستان میں ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے اس پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ صورتحال ’’ایک نہایت حساس مرحلے سے ایک قدم آگے بڑھ چکی ہے‘‘ اور پاکستان کی کوششیں ’’اہم اور نتیجہ خیز مرحلے میں داخل ہو رہی ہیں‘‘۔

ایران نے بھی اعلان کیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ دس نکاتی ایجنڈے پر مذاکرات جمعے سے اسلام آباد میں 15 روز کے لیے شروع ہوں گے، جن میں ضرورت پڑنے پر توسیع بھی ممکن ہے۔

ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے مطابق گزشتہ چالیس دنوں میں ’’ایرانی عوام اور مسلح افواج کی مزاحمت‘‘ نے دشمن کو پسپائی پر مجبور کیا ہے اور اب مذاکرات کا مقصد ’’میدانِ جنگ میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کو سیاسی سطح پر مضبوط کرنا‘‘ ہے۔

ایران کے 10 نکاتی منصوبے میں خطے کی جنگوں کا خاتمہ، آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری گزرگاہ، پابندیوں کا مکمل خاتمہ، منجمد اثاثوں کی بحالی، امریکی افواج کا انخلا، اور ایران کی تعمیرِ نو کے اخراجات کا ازالہ شامل ہے۔ ایران کا دعویٰ ہے کہ امریکہ ان اصولی نکات کو مذاکرات کی بنیاد کے طور پر قبول کر چکا ہے، تاہم ایران نے واضح کیا ہے کہ جنگ اسی وقت ختم ہوگی جب تمام نکات پر مکمل اتفاق ہو جائے گا۔

پاکستان نے امریکہ اور ایران دونوں کو جمعے کے روز اسلام آباد میں مذاکرات کے لیے مدعو کیا ہے۔ ابھی یہ واضح نہیں کہ اسرائیل جنگ بندی پر کس حد تک عمل کرے گا، تاہم سفارتی ذرائع کے مطابق یہ پیش رفت خطے میں کشیدگی کم کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

Share this content: