پاکستانی کشمیر کی سیاسی قیادت پر دوہرے معیار کا الزام، “بیس کیمپ” بیانیہ پھر متنازع

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں حکمران طبقے کے دوہرے معیار پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

مبصرین کے مطابق اگست 2019 کے بعد خطے کی حکومتیں بتدریج اس مؤقف سے پیچھے ہٹتی دکھائی دیتی ہیں کہ آزاد کشمیر پوری ریاست جموں و کشمیر کا “بیس کیمپ” ہے۔

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر سے تعلق رکھنے والے بعض تجزیہ کار اس تبدیلی کو مثبت قرار دیتے ہیں، تاہم ان کا کہنا ہے کہ اسی دوران “کشمیر کاز” کے نام پر قائم اداروں اور منصوبوں میں سیاسی بھرتیوں کا سلسلہ جاری رہا، جو تشویش کا باعث ہے۔

حال ہی میں آزاد کشمیر کے وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور نے دورہ لاہور کے دوران ایک انٹرویو میں کہا کہ خطہ حقیقت میں کبھی بھی “بیس کیمپ” کے طور پر کردار ادا نہیں کر سکا۔

تاہم ناقدین کے مطابق اس بیان کے برعکس حکومت نے “کشمیر کاز لینگویجز اینڈ آرٹس” کے لیے الگ سیکرٹریٹ قائم کیا اور 13 نئی آسامیاں بھی پیدا کیں، جس پر وضاحت دی گئی کہ یہ اسامیان لبریشن سیل سے متعلق ہیں، نہ کہ براہِ راست مسئلہ کشمیر سے۔

ادھر سابق وزیراعظم چوہدری انوار الحق اس خطے کو ماضی میں “بزنس کیمپ” قرار دے چکے ہیں۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق مالی سال 2024-25 میں لبریشن سیل کے لیے 30 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کیے گئے، جبکہ ناقدین کا دعویٰ ہے کہ اس ادارے میں سیاسی بنیادوں پر بھرتیاں کی گئیں۔

اسی طرح 2019 میں جب بھارت کی جانب سے کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ 2019 ہوا، اس وقت کے وزیراعظم راجہ محمد فاروق حیدر خان نے خود کو “لوکل اتھارٹی” قرار دیا، مگر اسی دور میں لبریشن سیل میں درجنوں سیاسی بھرتیوں کے ذریعے مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کا دعویٰ بھی کیا گیا۔

مزید برآں، 2024 میں مخلوط حکومت کے اہم رہنماؤں—جن میں صدر، وزیراعظم، سابق وزیراعظم اور اسپیکر شامل تھے—نے ایک بار پھر “بیس کیمپ” کے بیانیے کو فروغ دینے کی کوشش کی۔ ناقدین کے مطابق یہ بیانیہ ایک ایسے وقت میں دوبارہ ابھارا گیا جب خطے میں سیاسی اشرافیہ کے خلاف عوامی احتجاج زور پکڑ رہا تھا، اور اس کا مقصد توجہ ہٹانا تھا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایک جانب “بیس کیمپ” کے کردار سے انکار اور دوسری جانب اسی عنوان کے تحت ادارہ سازی اور اخراجات، حکومتی پالیسی میں واضح تضاد کو ظاہر کرتے ہیں، جس پر شفافیت اور احتساب کی ضرورت پہلے سے زیادہ بڑھ گئی ہے۔

Share this content: