پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے تعلق رکھنے والے آزادی پسند رہنما قیوم راجہ ایک بار پھر خبروں میں ہیں اور بھارتی میڈیا کی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔
کہاجارہا ہے کہ دو دہائیوں بعد یورپ واپسی پر ان کے خلاف تنقیدی مہم شروع کر دی گئی ہے، جس نے ایک مرتبہ پھر کشمیر سے متعلق عالمی بیانیے کو موضوع بحث بنا دیا ہے۔
بھارتی ویب سائٹ OpIndia نے اپنی حالیہ اشاعت میں قیوم راجہ کو نشانہ بناتے ہوئے برطانیہ کے سابق لیبر رہنما Jeremy Corbyn سمیت 33 برطانوی پارلیمنٹیرین کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان شخصیات نے ماضی میں قیوم راجہ اور محمد ریاض کی رہائی کے لیے آواز اٹھائی تھی۔
رپورٹس کے مطابق قیوم راجہ کو ایک متنازع مقدمے میں پہلے ٹرائل کورٹ اور بعد ازاں برطانوی وزارت داخلہ کی جانب سے سزا سنائی گئی۔ تاہم عدالتی کارروائی کے دوران یہ تسلیم کیا گیا تھا کہ وہ ایک بھارتی سفارت کار کے قتل میں براہِ راست ملوث نہیں تھے۔
ذرائع کے مطابق استغاثہ کا گواہ بننے سے انکار کرنے پر انہیں شدید دباؤ اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ یہ بھی دعویٰ کیا جاتا ہے کہ انہوں نے تقریباً 22 سال قید میں گزارے۔
جیل حکام کی متعدد رپورٹس میں قیوم راجہ کو ایک مثالی قیدی قرار دیا گیا۔ طویل قید کے باوجود انہوں نے سیاسی و سفارتی سطح پر اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں، جس نے انہیں ایک متحرک سیاسی کردار کے طور پر نمایاں رکھا۔
بھارت کا مؤقف ہے کہ جموں و کشمیر پر اس کی خودمختاری کو چیلنج کرنے والے عناصر ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق قیوم راجہ کے خلاف حالیہ میڈیا مہم اسی پالیسی کا تسلسل ہو سکتی ہے، جس میں اختلافی آوازوں کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
یہ پیش رفت ایک بار پھر کشمیر کے مسئلے کو عالمی سطح پر اجاگر کر رہی ہے، جہاں مختلف ممالک، سیاسی حلقے اور انسانی حقوق کے ادارے اپنے اپنے مؤقف کے ساتھ سامنے آتے رہتے ہیں۔
مبصرین کے مطابق اس طرح کی میڈیا مہمات نہ صرف سیاسی بیانیے کو متاثر کرتی ہیں بلکہ بین الاقوامی رائے عامہ پر بھی اثرانداز ہو سکتی ہیں۔
Share this content:


