مشال خان ، مر گئے ہو ، اب چپ بھی رہو ۔۔۔ حاشر ارشاد

انتخاب: فرحان طارق

میرے پاس بس ایک رنگ بچا ہے، سرخ رنگ ۔ آؤ اس میں برش ڈبوئیں اور خاک کے کینوس پر بنے اس جسم کو پینٹ کریں ۔ وہ دن گئے جب قلم کی نوک سے سیاہی کے قطرے گرتے تھے۔ اب اس سے احمریں لہو کی دھاریں گرتی ہیں۔ آؤ اس خون سے کچھ تاریک لفظ لکھتے ہیں۔ ابھی کچھ دیر میں خون جم جائے گا۔ پھر یہ کاغذ پر بکھرے سارے لفظ ہمارے دل کی طرح ایک سیاہ کہانی بن جائیں گے۔

یہ نیم برہنہ شکتہ جسم دشت لیلی کی گرم ریت پر سلگ رہا ہے کہ رقہ کے اجڑے بازار کے کی تڑپتا ہے۔ یہ طلب کی سرحد پر گرا ہے کہ وزیرستان کی دور افتادہ پہاڑیوں پر بکھرا ہے۔ نہیں، وہاں نہیں، یہ تو سنگ مرمر کی سیڑھیوں کے قدموں میں دھرا ہے۔ یہ سیڑھیاں ایک عمارت کی طرف احتی ہیں۔ یہ مقتل نہیں ہے، یہ جامعہ ہے۔ ملک کی اعلیٰ یونیورسٹیوں میں سے ایک ۔ یہ اس ملک کے سب سے پڑھے لکھے اور ایک فی صد سے بھی کم لوگوں کا مسکن ہے۔ یہ اس ملک کا مستقبل ہیں۔

اس کی امید کی ڈور ہیں۔ اس کے خوابوں کی تعبیر ہیں۔ اس زمین کا آسمان ہیں یہ لوگ۔ اور یہ سب جوق در جوق تماشا دیکھنے کے لیے ٹوٹے پڑتے ہیں۔

کسی چہرے پر ندامت نہیں ہے ۔ کسی آنکھ میں آنسو نہیں ہیں۔ کوئی ہاتھ ظلم کی راہ میں مزاحم نہیں ہے۔ جو کچھ ہاتھ تشدد سے پرے اٹھے ہیں ان میں موبائل سے ویڈیو بنتی ہے۔ یہ اوندھے منہ ایک کڑیل جو ان پڑا ہے۔ اس کے جسم کے زیریں حصے سے کپڑے نوچ لیے گئے ہیں۔ او پری جسم لہولہو ہے۔ ایک گولی شاید سر میں اتاری گئی ہے ایک شاید سینے میں ۔ کچھ سانس ابھی چلتے ہیں۔ پھر ہجوم میں سے ایک جوان لپکتا ہے۔ ایک اینٹ اٹھاتا ہے اور لاش بنتے جسم کے سر پر دے مارتا ہے۔ اینٹ اچٹتی ہے۔ سر پاش پاش نہیں ہوتا۔ دوسروں کا جذبہ ایمانی مہمیز ہوتا ہے۔ ایک کے بعد ایک نوجوان پتھر ، اینٹیں اور ڈنڈے لیے حملہ آور ہوتا ہے۔ کوئی سر پر ٹھنڈے مار رہا ہے کوئی سینے پر ٹھوکر میں لگا رہا ہے۔ سر کھل گیا ہے۔ اندر جو تھا وہ اب فرش پر بکھرا پڑا ہے۔ ہر طرف اللہ اکبر کے نعرے ہیں۔ یہ سب طالب علم ہیں جو اس وقت صرف لہو کے طالب ہیں۔ میں اپنے کمرے میں بیٹھا عبدالولی خان یونیورسٹی کی یہ ویڈیو دیکھتا ہوں اور اپنے انسان ہونے پرشرمندہ ہوتا ہوں ۔ اور کیا کروں؟

میں مشال خان کو نہیں جانتا۔ میں اس کا فیس بک پیج کھولتا ہوں۔ ایک خوبصورت جوان کی زندگی سے بھر پور تصویریں دیکھتا ہوں۔ خوبصورت لفظوں میں لیٹی اس کی فیس بک پوسٹس پڑھتا ہوں ۔ کہیں تو ہین کا سر نہیں ملتا، کہیں کم ترین درجے میں بھی کوئی فضول بات نہیں ہے۔ ایک نظم بھی نظر آتی ہے۔ یہ مثال کی لکھی ہوئی نہیں ہے۔ لیکن اس انتخاب پر سوچیے کہ کیوں کر مشال کو دیوار کے پار دکھتا تھا۔

میں لاپتا ہو گیا ہوں
کئی ہفتے ہوئے
پولیس کو رپورٹ لکھوائے
تب سے روز تھانے جاتا ہوں
حوالدار سے پوچھتا ہوں
میرا کچھ پتا چلا ؟
ہمدرد پولیس افسر مایوسی سے سر ہلاتا ہے
پھنسی پھنسی آواز میں کہتا ہے
ابھی تک تمھارا کچھ سراغ نہیں ملا
پھر وہ تسلی دیتا ہے
کسی نہ کسی دن
تم مل ہی جاؤ گے
بے ہوش
کسی سڑک کے کنارے
یا زخمی ہو جائیں
کسی اسپتال میں
یا کوئی لاش
کسی ندی میں
میری آنکھوں میں آنسو آ جاتے ہیں
میں بازار چلا جاتا ہوں
اپنا استقبال کرنے کے لیے
گل فروش سے پھول خریدتا ہوں
اپنے زخموں کے لیے
کیمسٹ سے
مرہم پٹی کا سامان
تھوڑی روئی
اور درد کشا گولیاں
اپنی آخری رسومات کے لیے
مسجد کی دُکان سے ایک کفن
اور اپنی یاد منانے کے لیے
بہت سی موم بتیاں
کچھ لوگ کہتے ہیں
کسی کے مرنے پر
موم بتی کی ضرورت نہیں ہے۔
لیکن وہ یہ نہیں بتاتے
کہ آنکھ کا تارہ لاپتا ہو جائے
تو روشنی کہاں سے لائیں؟
گھر کا چراغ بجھ جائے
تو پھر کیا جلا ہیں ؟“

اس نظم کے بعد تحریر ہے:

میں ایک عمر سے کانٹے چتا ہوں اور پھول ہوتا ہوں ۔ وہ پھول جو سوچ اور ذہن میں اگتا ہے۔اب یہ جن کی نظر میں کا نا تھا، انھوں نے اسے چن دیا ہے اور سارا چمن خاکستر ہے۔ پھول اب کہاں آگے گا۔

یار کمال کرتے ہیں۔ ایک سے ایک تاویل ہے قتل کی۔ جو اسے مسلمان کی بجائے دہر یہ یا لہ کہنے پر مصر ہیں، ان سے پوچھنا ہے کہ کون سا اسلام الحاد یا دہریت پر ہجوم کی جانب سے حد جاری کرتا ہے۔ کون سا ملکی قانون اس ضمن میں سزا دیتا ہے۔ جو اسے تو ہین کا مرتکب بتاتے ہیں، ان میں وہ بھی ہیں جو اس کی دیوار سے عبدالحمید عدم کا شعر نقل کرتے ہیں اور اسے تو ہین کی مثال بتاتے ہیں۔ اگر یہ بھی اہانت کے زمرے میں درج کرنا ہے تو پھر شہر میں کوئی بھی زندہ نہ رہے گا حضور بفرض محال آپ کی بات مان لیں تو پولیس کدھر ہے۔ ایف آئی آر کا کاغذ کہاں ہے،

عدالت کہاں گئی ، ملزم کی صفائی کا موقع کہاں گیا، شہادتوں کا اندراج کہاں ہوا ، فیصلہ سنانے کا اختیار رکھنے والا قاضی کیا ہوا۔ یہ قاتلوں کو سارے اختیار دینے کا جواز اخلاقیات کی کسی کتاب سے برآمد ہوا ہے ، قانون کی کسی دفعہ سے اس پر مہر لگی ہے، مذہب کی کون سی تشریح سے اس کا دفاع ممکن ہوا ہے۔ جنھوں نے الزام لگایا، انھوں نے ہی عدالت سجائی ، سزا سنائی اور وہی جلا وہی بنے۔ واہ۔

مشال خان کی تصویر دیکھیے۔ یہ گولی کی زبان کے مقابل موسیقی کے سر چھیڑتا تھا۔ ایسا کون بے وقوف ہوتا ہے۔ سوسزا پالی ہے۔ میں رپورٹنگ نہیں کر رہا۔ مجھے تحقیقات نہیں کرتی ہیں۔ کچھ دیر میں چینل ایک سے ایک بازی لے جائیں گے۔ مثال کی ساری زندگی ابھی آپ کے سامنے ہوگی ۔ کچھ الزام لگیں گے، کچھ صفائیاں دی جائیں گی ۔ شاید سچ بھی سامنے آہی جائے ۔ مجھے اس سے غرض نہیں ہے۔ میرے پاس تو بس کچھ ٹوٹے پھوٹے سوال ہیں جن کو لیے میں گھوم رہا ہوں۔کوئی مجھے ان کے جواب دے دے۔

الزام جو بھی ہو، کیا سزا دینے کا حق عدالت کے سوا کسی کا ہے؟ اگر نہیں تو یہ بربریت کیوں محور قص ہے؟ آئین کی دفعہ 295 سے 298 کو وجود میں آئے تیسری دہائی ہے۔ پاکستان کو بے ستر سال ہوگئے۔ کیا وجہ ہے کہ دفعات کے اُدھر کے چالیس سالوں میں ان جرائم کا سراغ خال خال ملتا ہے اور ادھر کے تیس سالوں میں مانو سیلا ب بند توڑ کر نکلا ہو۔ اس آڑ میں کس کس اور جرم کی پردہ داری ہوئی ہے؟ ملک کی بیس کروڑ کی آبادی میں سے بمشکل 5 فی صد یونیورسٹیوں میں پہنچ پاتے ہیں ۔ یہ ہمارا سب سے تعلیم یافتہ طبقہ ہے۔ اگر یہ 5 فی صد بھی متشدد اور قانون کے احترام سے نابلد ہے تو باقی 95 فی صد کا کیا حال ہو سکتا ہے؟ اس حال میں امید کا دیا کیسے چلے گا اور کون جلائے گا ؟ اگر ہمارے مذہب کا یہی چہرہ دنیا نے دیکھنا ہے تو کون اس دُنیا کو اس بات پر قائل کرے گا کہ یہ مذہب امن کا مذہب ہے؟ آپ ایک شعلہ بیان خطیب کی ابھی کی ویڈیو بھولے تو نہیں ہوں گے جس میں انھوں نے صاف صاف کہا تھا کہ اسلام امن کا دین نہیں ہے۔ اور ان کے حاضرین کی واہ واہ آسمان تک گئی تھی۔

بھارت میں گاؤ ہتیا پر مرتے مسلمانوں کو مذہبی انتہا پسندی اور نفرت کا شکار سمجھنے والے ہمارے دوست اپنی ہی سرحدوں کے اندر مثال جیسے نوجوانوں کے تشدد سے مرنے کو بھی کیا انتہا پسندی کا شاخسانہ بتائیں گے یا اسے ایمان کی فتح قرار دیں گے؟ چلیں مذہبی بحث کو بھی چھوڑیں، ایک پاکستانی کی حیثیت سے میں کیا کہوں کہ میرے سب سے تعلیم یافتہ ذہن ایک ان کی سیڑھیوں پر اپنے ہی ساتھی کو گولیوں، لاٹھیوں اور پتھروں سے قتل کرتے ہیں اور ان کے باقی تعلیم یافتہ ساتھی اس کی ویڈیو بناتے ہیں یا پھر اس تما شاد دیکھتے ہیں۔ میں کیسے اس ملک کا شہری ہونے پر فخر کروں؟ میری ریاست کہاں ہے؟ میرا نیشنل ایکشن پلان کہاں ہے؟ میرے قانون کے رکھوالے کہاں ہیں؟ میری انسانیت کہاں ہے؟ میرا امن کا عقیدہ کہاں ہے؟ میرے دانشور کہاں ہیں؟ میرے پیشوا کہاں ہیں؟ یہ موت کی خاموشی میں کوئی بولتا کیوں نہیں ہے؟ کدھر گیاایسا کون کو لے مانے مجھے اس ہوں۔کیا بیان کا کوئی متبادل ہے؟

پھر میرے کان میں کوئی سرگوشی کرتا ہے ۔ کہتا ہے، حاشر، اتنے معصوم نہ بنو۔ تم جانتے ہو، یہ سارے جواب مشال خان کے پاس ہیں۔ اس کا سیاہ پڑتا لہو لفظ بناتا ہے۔ ایک تاریک کہانی سناتا ہے۔ پر تم بہرے اور اندھے بنے رہنا چاہتے ہو۔ تم یہ کہانی سنا نہیں چاہتے، پڑھنا نہیں چاہتے کہ اس کا ایک کردار تم بھی ہو۔ میں ہونٹوں پر انگلی رکھتا ہوں اور آہستہ سے کہتا ہوں ۔ مثال خان ، مر گئے ہو۔ اب چپ بھی رہو۔

13 اپریل 2017 یوم شہادت مشال خان

٭٭٭

Share this content: