پاکستان کے دارلحکومت اسلام آباد میں پاکستان کی ثالثی میں گذشتہ دنوں ہونے والے ایران امریکا مذاکرات کے دوران ایک نیا تنازع سامنے آیا ہے، جس کے مطابق حکومتی اور عسکری اداروں نے پاکستانی میڈیا کو مذاکرات سے متعلق خبریں نشر کرنے سے روک دیا۔
اس پابندی نے صحافتی حلقوں میں شدید ردعمل پیدا کیا ہے، جہاں اسے معلومات تک رسائی کی بنیادی آزادی کے منافی قرار دیا جا رہا ہے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ مذاکرات کی کوریج کے لیے عالمی میڈیا کے نمائندوں کو ویزہ آن ارائیول کی خصوصی سہولت دے کر پاکستان بلایا گیا، جبکہ مقامی میڈیا کو نہ صرف رسائی نہیں دی گئی بلکہ انہیں مذاکرات سے متعلق نشریات سے بھی روکا گیا۔ اس امتیازی رویے پر حکومتی اداروں کو سخت تنقید کا سامنا ہے۔
یہ صورتحال اس وقت سامنے آئی جب ایران اور امریکا کے درمیان تکنیکی سطح کے مذاکرات اسلام آباد میں جاری تھے، جنہیں پاکستان کی سفارتی کامیابی قرار دیا جا رہا تھا۔
تاہم مقامی میڈیا پر پابندی نے اس عمل کی شفافیت اور معلومات کی آزادانہ فراہمی پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
اس سے قبل بھی میڈیا پالیسیوں اور کوریج پر قدغنوں کے حوالے سے مختلف صحافتی تنظیمیں تشویش کا اظہار کرتی رہی ہیں، مگر بین الاقوامی نوعیت کے اس اہم سفارتی عمل میں مقامی میڈیا کو باہر رکھنا ایک غیر معمولی قدم سمجھا جا رہا ہے۔
Share this content:


