بھارتی لیجنڈ گلوکارہ آشا بھوسلے کی وفات کی خبر دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی دکھ کے ساتھ رپورٹ کی گئی، تاہم جیو نیوز کو اس کوریج پر پیمرا کی جانب سے شوکاز نوٹس موصول ہوا ہے۔
چینل کے مطابق نوٹس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ خبر کے ساتھ آشا بھوسلے کے گانوں کی فلمی جھلکیاں نشر کی گئیں، جو سپریم کورٹ کے 2018 کے اُس فیصلے کی خلاف ورزی ہے جس میں پاکستانی چینلز پر بھارتی مواد دکھانے پر پابندی عائد کی گئی تھی۔
جیو نیوز کے مینجنگ ڈائریکٹر اظہر عباس نے سوشل میڈیا پر نوٹس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں فنکاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنا صحافتی روایت ہے، اور آرٹ کو سرحدوں میں قید نہیں کیا جا سکتا۔
ان کا کہنا تھا کہ آشا بھوسلے نے نور جہاں، نصرت فتح علی خان اور ناصر کاظمی جیسے پاکستانی فنکاروں اور شعرا سے بھی گہرا تعلق رکھا۔
دوسری جانب پیمرا کا مؤقف ہے کہ کسی فنکار کی وفات کی خبر پر فلمی گانوں کے پیکج چلانا صحافتی معیار کے خلاف ہے، اور بھارتی مواد نشر کرنا عدالتی حکم اور پیمرا آرڈیننس کی خلاف ورزی ہے۔
ادارے نے جیو نیوز کو 27 اپریل کو جواب داخل کرنے کی ہدایت کی ہے۔
یاد رہے کہ حالیہ دنوں اسلام آباد میں پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے ایران امریکا مذاکرات کے دوران ایک نیا تنازع سامنے آیا ہے، جس کے مطابق حکومتی اور عسکری اداروں نے پاکستانی میڈیا کو مذاکرات سے متعلق خبریں نشر کرنے سے روک دیا۔ اس پابندی نے صحافتی حلقوں میں شدید ردعمل پیدا کیا ہے، جہاں اسے معلومات تک رسائی کی بنیادی آزادی کے منافی قرار دیا جا رہا ہے۔
Share this content:


