کھڑی شریف / میرپور/کاشگل نیوز
پاکستان کے زیر انتظام مقبوضہ جموں و کشمیر میں محکمہ برقیات کی ناقص کارکردگی، غیر اعلانیہ اور طویل لوڈشیڈنگ، بجلی چوری اور مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے سخت ردعمل دیتے ہوئے فوری اصلاحات اور شفاف انکوائری کا مطالبہ کر دیا۔
میرپور میں کشمیر پریس کلب میں منعقدہ ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کمیٹی کے کور ممبران سعد انصاری ایڈووکیٹ اور راجہ دانش ایڈووکیٹ نے دیگر عہدیداران کے ہمراہ کہا کہ محکمہ برقیات کی نااہلی اور ناقص منصوبہ بندی کے باعث شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے مختلف الزامات سے متعلق دستاویزی شواہد بھی میڈیا کے سامنے پیش کیے۔
مقررین نے وزیر اعظم جموں و کشمیر، چیف سیکرٹری اور سیکرٹری برقیات سے مطالبہ کیا کہ 10 دن کے اندر اندر شفاف اور غیر جانبدار انکوائری کرائی جائے اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے۔
انہوں نے کہا کہ میرپور جیسے اہم شہر میں بجلی کی مسلسل بندش سے معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہو رہے ہیں، کاروباری سرگرمیاں ٹھپ ہو چکی ہیں جبکہ طلبہ کی تعلیم بھی متاثر ہو رہی ہے اور شہری ذہنی اذیت کا شکار ہیں۔
پریس کانفرنس میں بجلی چوری کے بڑھتے ہوئے رجحان پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ مقررین کے مطابق بڑے صنعتی ادارے، فرنچائزز، نجی تعلیمی ادارے، بینکس اور ہسپتال اس میں ملوث ہیں، جبکہ بااثر عناصر کی سرپرستی میں جاری یہ عمل ایماندار صارفین کے ساتھ ناانصافی ہے اور محکمہ کی خاموشی کئی سوالات کو جنم دے رہی ہے۔
انہوں نے انفراسٹرکچر کی خریداری میں مبینہ کرپشن اور غیر شفافیت کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ آلات کی خریداری میں بے ضابطگیاں اور فنڈز کے غلط استعمال نے نظام کو مزید کمزور کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر بجلی کی پیداوار میں خود کفیل ہے، خصوصاً منگلا ڈیم کے متاثرہ علاقے میرپور میں لوڈشیڈنگ کسی صورت قابل قبول نہیں۔
کمیٹی نے اپنے مطالبات میں کہا کہ میرپور میں لوڈشیڈنگ کا مکمل خاتمہ کیا جائے، بجلی چوری کے خلاف بلاامتیاز آپریشن کیا جائے، انفراسٹرکچر کی خریداری میں شفافیت یقینی بنائی جائے، محکمہ برقیات میں اصلاحات نافذ کی جائیں اور عوامی شکایات کے فوری ازالے کے لیے مؤثر نظام قائم کیا جائے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر صورتحال میں بہتری نہ آئی اور ملوث عناصر کے خلاف کارروائی نہ کی گئی تو جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی عوام کے ہمراہ بھرپور احتجاجی تحریک شروع کرے گی، جس کی ذمہ داری حکومت اور متعلقہ اداروں پر عائد ہوگی۔
دوسری جانب کمیٹی نے حکومت آزاد کشمیر کی جانب سے میرپور تعلیمی بورڈ کے فنڈز اور اثاثہ جات کی تقسیم کے فیصلے کو بھی مسترد کرتے ہوئے اسے 4 اکتوبر معاہدے کے خلاف قرار دیا۔ مقررین نے کہا کہ نئے تعلیمی بورڈز کے قیام کے اخراجات حکومت کو خود برداشت کرنا تھے، تاہم موجودہ نوٹیفکیشن کسی صورت قابل قبول نہیں، لہٰذا اسے فوری طور پر واپس لیا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایسے اقدامات سے علاقائی تقسیم کو ہوا مل رہی ہے، جسے عوامی تحریک اور اس کے شہداء کی قربانیوں سے ختم کیا گیا تھا۔ کمیٹی نے خبردار کیا کہ نوٹیفکیشن واپس نہ لیا گیا تو پورے آزاد کشمیر میں احتجاج کی کال دی جائے گی۔
پریس کانفرنس میں سنٹرل ٹریڈرز یونین کے صدر غلام جیلانی، محسن خلیل، مرزا ساجد ایڈووکیٹ، شیخ رشید، کمال خال، نبیل قریشی، نوید قریشی، طارق کشمیری، چوہدری عاصم سمیت دیگر ممبران کی بڑی تعداد موجود تھی۔
Share this content:


