پاکستانی کشمیر: جعلی منشیات مقدمہ بنانے پر پولیس افسران و ملازمین کے خلاف انکوائری کا حکم، ملزم بری

راولاکوٹ /کاشگل نیوز

پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں ڈسٹرکٹ وسیشن جج پونچھ راولاکوٹ راجہ فیصل مجید خان نے منشیات کے مقدمہ زیر دفعہ CNSA.9C میں ملزم علی جاوید ولد محمد جاوید ساکن چھوٹا گلہ تحصیل راولاکوٹ کو بری کرتے ہوئے مستغیث مقدمہ/سب انسپکٹر وقاص بشارت،تفتیشی آفیسر محمد شبیر ASI اور جھوٹے گواہان استغاثہ کے خلاف فرضی وجعلی اور جھوٹا مقدمہ بنانے کی پاداش میں زیر دفعہ 193،211،182 تعزیرات جموں وکشمیر اور CNSA-26 کے تحت عدالتی/فوجداری کاروائی شروع کرتے ہوئے اصالتاً طلب کرلیا ہے اور SSP پونچھ کو جملہ پولیس آفیسران/ملازمین جو مقدمہ ہذا میں ملوث ہیں اور جھوٹی شہادتیں دی ہیں کے خلاف محکمانہ کارروائی کی الگ سے بھی ہدایت کردی ہے۔

جموں وکشمیر میں اس نوعیت کا شائد یہ پہلا مقدمہ ہے جس میں ملزم کو بری کرتے ہوئے مستغیث مقدمہ سب انسپکٹر ،تفتیشی آفیسر محمد شبیر ASI،پولیس آفیسران واہلکاران اور گواہان استغاثہ کے خلاف فوجداری/عدالتی کاروائی کے علاوہ محکمانہ انضباطی کاروائی شروع کی گئ ہے۔

اس مقدمہ میں مورخہ 28.06.2025 کو سب انسپکٹر پولیس چوکی کھائیگلہ نے چھوٹا گلہ یونیورسٹی کمپیس(زیر تعمیر) سے ملزم کو گرفتار کرتے ہوئے 1020 گرام چرس برآمد کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔

عدالت نے ملزم کو گرفتاری کے (10) ماہ کے معاوضہ کا بھی حقدار قرار دیا اور ملزم کو فوری طور پر ڈسٹرکٹ جیل پونچھ سے رہا کرنے کا حکم جاری کیا۔۔

ملزم کی جانب سے مقدمہ کی پیروی سردار عبدالصمد ایڈووکیٹ نے کی۔

مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزم کو دوران کھیل گرفتار کیا گیا تھا اور گرفتاری کی وجہ پولیس اہلکاروں سے کسی بات پر تکرار تھی، جس کی وجہ سے اسے انتقام کا نشانہ بناتے ہوئے منشیات برآمدگی کا کیس بنایا گیا تھا۔

یہ پہلا موقع ہے کہ عدالت نے پولیس کو منشیات جھوٹا مقدمہ بنانے کا ذمہ دار قرار دے کر انکوائری کا حکم دیا ہے۔

Share this content: