اسلام آباد/کاشگل نیوز
پاکستان بھر میں شدید توانائی بحران سے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بھی بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے، جہاں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 12 گھنٹوں سے تجاوز کر گیا ہے۔ طویل اور غیر اعلانیہ بندشوں کے باعث کاروباری سرگرمیاں شدید متاثر ہو رہی ہیں جبکہ معمولاتِ زندگی مفلوج ہو کر رہ گئے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق شہر کے مختلف علاقوں میں دن اور رات کے اوقات میں بار بار بجلی کی فراہمی معطل کی جا رہی ہے، جس سے تاجروں، دکانداروں اور صنعتی شعبے کو بھاری مالی نقصان کا سامنا ہے۔ چھوٹے کاروبار خصوصاً شدید متاثر ہو رہے ہیں، جہاں بجلی نہ ہونے کے باعث کام مکمل طور پر رک چکا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ شدید گرمی اور حبس کے موسم میں بجلی کی طویل بندش نے مشکلات میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے۔ بچے، بزرگ اور خواتین شدید اذیت میں مبتلا ہیں جبکہ پانی کی فراہمی بھی متاثر ہونے سے گھریلو مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے۔ شہری حلقوں نے شکایت کی ہے کہ بارہا شکایات کے باوجود متعلقہ حکام کی جانب سے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے جا رہے۔
واضح رہے کہ حکومت کی جانب سے لوڈشیڈنگ کو محدود کر کے دو گھنٹے تک رکھنے کے دعوے کیے گئے تھے، تاہم زمینی حقائق اس کے برعکس دکھائی دیتے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ حکومتی اعلانات محض تقاریر تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں جبکہ عملی طور پر صورتحال دن بدن خراب ہوتی جا رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق بجلی کی طلب اور رسد میں بڑھتا ہوا فرق، نظام کی ناقص منصوبہ بندی اور ترسیلی نظام میں خرابیاں اس بحران کی بڑی وجوہات ہیں۔ شہریوں اور تاجر تنظیموں نے حکومت سے فوری نوٹس لینے اور لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے لیے ہنگامی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے، بصورت دیگر احتجاجی تحریک چلانے کی بھی دھمکی دی گئی ہے۔
Share this content:


