بلوچستان سے پاکستانی فوج کے 2 اہلکاروں کی مسلح افراد کے ہاتھوں گرفتاری کا واقعہ سامنے آیا ہے جس میں ایک انٹیلی جنس افسر بھی شامل ہے۔
بلوچستان کے ایک مقامی میڈیا کے خبر کے مطابق یہ واقعہ ضلع ہرنائی میں پیش آیا جہاں ایک آپریشن کے دوران نامعلوم مسلح افراد نے پاکستانی فوجی یونٹ پر گھات لگا کر حملہ کیا ۔
خبر کے مطابق حملے کے نتیجے میں ایک فوجی اور ایک انٹیلی جنس افسر کو مسلح افراد نے حراست میں لیا ہے۔
کہا جارہا ہے کہ دونوں اہلکاروں کو حراست میں لینے کے بعد مسلح افراد اپنے ساتھ لے گئے۔
مقامی ذرائع نے گرفتار ایک اہلکار کی شناخت عبدالحلیم ولد شفیع محمد کے طور پر کی ہے، جبکہ دوسرے افسر کی شناخت تاحال سامنے نہیں آئی۔
حکام کی جانب سے اس واقعے پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔
دوسری جانب کسی تنظیم نے بھی تاحال اس واقعہ کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔
یاد رہے کہ بلوچستان میں بلوچ عسکریت پسند، جو بلوچستان کی آزادی کے لیے مسلح جدوجہد کر رہے ہیں، گزشتہ دو ہفتوں سے غیر معمولی طور پر سرگرم ہیں۔ اس دوران پاکستانی فورسز پر ان کی متعدد کارروائیاں مقامی میڈیا میں رپورٹ ہو چکی ہیں، جس سے خطے میں کشیدگی اور غیر یقینی صورتحال میں اضافہ ہوا ہے۔
Share this content:


