ڈاکٹر ماہ ر نگ بلوچ کی درخواستِ ضمانت مسترد، معاملہ سپریم کورٹ پہنچ گیا

بلوچستان کی معروف سماجی کارکن اور بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کی مرکزی آرگنائزر ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے اپنے خلاف درج مقدمے میں بعد از گرفتاری ضمانت مسترد ہونے کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔

درخواست پیر کے روز ان کے وکیل ایڈووکیٹ جبران ناصر کی جانب سے دائر کی گئی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ بلوچستان ہائی کورٹ کی جانب سے ضمانت مسترد کرنے کا فیصلہ قانونی تقاضوں کے مطابق نہیں۔

ڈاکٹر ماہ ر نگ بلوچ کے خلاف یہ مقدمہ انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت درج کیا گیا تھا۔ یہ ایف آئی آر کوئٹہ میں انسداد دہشت گردی ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) میں اسٹیشن ہاؤس آفیسر اصغر علی کی مدعیت میں 6 جنوری 2025 کو درج کی گئی تھی۔

ڈاکٹر ماہ ر نگ بلوچ کا نام 23 اکتوبر 2024 کو ایک سرکاری نوٹیفکیشن کے ذریعے فورتھ شیڈول میں شامل کیا گیا۔

ان پر الزام ہے کہ وہ مطلوبہ پیشیوں سے غیر حاضر رہیںاور اس کے باوجود عوامی جلوسوں اور دھرنوں میں شرکت جاری رکھی۔

بلوچستان ہائی کورٹ نے 23 فروری 2026 کو ان کی بعد از گرفتاری ضمانت کی درخواست مسترد کر دی تھی، جس کے بعد اب سپریم کورٹ سے رجوع کیا گیا ہے۔

درخواست میں عدالتِ عظمیٰ سے استدعا کی گئی ہے کہ ہائی کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے۔اور درخواست گزار کو ضمانت پر رہا کیا جائے۔

قانونی ماہرین کے مطابق یہ کیس نہ صرف انسداد دہشت گردی قوانین کے استعمال بلکہ سیاسی و سماجی کارکنوں کے خلاف مقدمات کے حوالے سے بھی اہم نظیر بن سکتا ہے۔

یہ مقدمہ اس بات کا تعین کرے گا کہ آیا احتجاجی سرگرمیوں میں شرکت کو کس حد تک سیکیورٹی قوانین کے دائرے میں لایا جا سکتا ہے یا نہیں۔

یاد رہے کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور اسکے دیگر ساتھی صبغت اللہ شاہ جی ، بیبو بلوچ ،گلزادی بلوچ اور بیبرگ بلوچ گذشتہ ایک سال سے زائد عرصے سے کوئٹہ کے ہدہ جیل میں قید تنہائی میں ہیں۔

Share this content: