کشمیر میں جماعت اسلامی سے مراسم کے شبے میں جامعہ سراج العلوم سیل

کشمیر میں حکام نے ضلع شوپیان میں واقع جامعہ سراج العلوم نامی ایک سکول کو انسداد دہشت گردی کے قانون ’ان لافُل ایکٹوٹیز پریوینشن ایکٹ‘ کے تحت ’غیر قانونی‘ قرار دیتے ہوئے سیل کر دیا ہے۔

کشمیر کے صوبائی کمشنر انشول گرگ کے آفس سے جاری ہونے والے نوٹیفیکیشن میں کہا گیا ہے کہ سکول کو سیل کرنے کے بعد یہاں عملے کے افراد یا طالب علموں کے داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی۔ حکمنامے میں لوگوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ سکول کے اندر یا اردگرد اجتماع کی صورت میں احکامات کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

اسی سکول سے فارغ التحصیل شوپیان کے معروف وکیل ناصرالاسلام کا کہنا ہے کہ ’اس سکول میں 800 سے زیادہ بچے زیرتعلیم تھے اور 70 اساتذہ اور غیرتدریسی عملے کا براہ راست روزگار سکول کے ساتھ وابستہ ہے۔ اس سکول میں باقاعدہ سرکاری نصاب پڑھایا جاتا تھا، اور یہ دہائیوں سے سٹیٹ بورڈ سے منظور شدہ ہے۔‘

دوسری جانب مقامی پولیس ذرائع کا الزام ہے کہ سکول کی انتظامیہ کئی برس قبل کالعدم قرار دی گئی تنظیم جماعت اسلامی کے ساتھ مراسم رکھتی ہے۔ ایک پولیس افسر نے بتایا کہ ’تعلیمی اداروں کی سرگرمیوں پر کڑی نگاہ رکھی جا رہی ہے، کیونکہ تخریب کار عناصر بچوں میں انتہاپسندی کے جذبات بھڑکانے کی کوشش کرتے ہیں۔‘

ایڈوکیٹ ناصر الاسلام کا کہنا ہے کہ شوپیان سے تعلق رکھنے والے شخص پیر گُل محمد نے دہائیوں قبل اپنی زمین وقف کرتے ہوئے وصیت کی تھی کہ اس پر ایسا ادارہ بنایا جائے جہاں نئی نسل کو جدید علوم پڑھائے جائیں اور ان کی کردار سازی بھی ہو اور پھر اسی مقام پر جامعہ سراج العلوم نامی ادارے قائم کیا گیا۔

ناصر کا کہنا ہے کہ سکول کی کارکردگی پورے کشمیر میں معروف ہے، کیونکہ نہ صرف نتائج 100 فیصد ہوتے ہیں بلکہ یہاں کے بچے بورڈ میں امتیازی پوزیشن بھی حاصل کرتے ہیں۔

واضح رہے کشمیر میں جماعت اسلامی پر سات سال قبل پابندی عائد ہونے کے بعد سینکڑوں ایسے سکولوں کو یا تو بند کیا گیا یا سرکاری سکولوں میں ضم کیا گیا جو جماعت کے ذیلی ادارے فلاح عام ٹرسٹ کے تحت چلائے جارہے تھے۔ سکول انتظامیہ کے مطابق سراج العلوم براہ راست جماعت سے منسلک نہیں تھا۔

Share this content: