اسلام آباد/ کاشگل نیوز
پاکستان کے زیر انتظام مقبوضہ جموں وکشمیر کے سالانہ ترقیاتی پروگرام ADP 2025-26 کی سرکاری دستاویز نے حکومتی منصوبہ بندی اور فنڈز کے مؤثر استعمال پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
دستاویز کے مطابق سیاحت و آثار قدیمہ کے شعبے کیلئے مختص 67 کروڑ 10 لاکھ روپے جبکہ یوتھ، سپورٹس اینڈ کلچر کے لیے 26 کروڑ 30 لاکھ روپے بروقت استعمال نہ ہونے کی وجہ سے واپس کر دیے گئے۔ مجموعی طور پر 120 کروڑ روپے کے ترقیاتی بجٹ میں صرف 26 کروڑ 60 لاکھ روپے ہی منصوبوں پر خرچ ہو سکے۔
ریڈ فورٹ مظفرآباد کی مرمت و بحالی کے لیے مختص 7 کروڑ 26 لاکھ روپے اور دیگر سیاحتی مقامات کی ترقی کیلئے 18 کروڑ 35 لاکھ روپے مکمل طور پر استعمال نہ ہو سکے، جبکہ نئے ترقیاتی منصوبوں کیلئے رکھی گئی 34 کروڑ 74 لاکھ روپے کی رقم بھی واپس کر دی گئی۔ یوتھ، سپورٹس اینڈ کلچر کے جاری اور نئے منصوبوں کیلئے مختص کروڑوں روپے بھی عملی منصوبوں میں تبدیل نہ ہو سکے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ محض اعدادوشمار کا معاملہ نہیں بلکہ عوامی سہولت، سیاحتی ترقی اور نوجوانوں کے مواقع سے جڑا ہوا ہے، جس میں تاخیر براہِ راست عوام کو متاثر کرتی ہے۔ سیاسی و عوامی حلقے وزیر سیاحت فہیم ربانی، مشیر یوتھ سپورٹس اینڈ کلچر سردار احمد صغیر اور متعلقہ انتظامی سربراہ سردار انصر یعقوب کی کارکردگی پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔
اب یہ دیکھنا ہوگا کہ حکومت اس سرکاری دستاویز کے بعد وضاحت کرتی ہے یا اسے بھی روایتی فائلوں میں دفن کر دیا جاتا ہے۔
Share this content:


