تحریر: یاسر ارشاد
کشمیر کی تین سال سے جاری عوامی تحریک 9 جون 2026ء کو ایک نئے اور انتہائی اہم معرکے کی جانب بڑھ رہی ہے۔ گزشتہ برس 29 ستمبر سے 4 اکتوبر تک کے ایک طویل لاک ڈاؤن کے بعد حکومت سے طے پانے والے معاہدے پر عملدرآمد نہ کیے جانے کے خلاف 9 جون کو مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کی کال دی جا چکی ہے جس کی تیاریاں جوش و خروش سے جاری ہیں۔ 30 مئی کو حکومت کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں بھی کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہو سکی جس کے بعد جوائنٹ کمیٹی نے لانگ مارچ کی کال برقرار رکھنے کا اعلان کیا ہے جبکہ حکومتی نمائندوں کی جانب سے مذاکرات میں ڈیڈ لاک اور ممکنہ طور پر 9 جون سے قبل مذاکرات کے فیصلہ کن دور کے انعقاد کا عندیہ دیا گیا ہے۔ ماضی کی طرح لیکن اس سے کئی گنا بڑے پیمانے پر لانگ مارچ کی تیاریوں کے لیے کانفرنسز کے انعقاد کا ایک سلسلہ جاری ہے۔ نہ صرف ان کانفرنسز میں شمولیت کرنے والوں کی تعداد ماضی کی نسبت زیادہ ہے بلکہ بے شمار ایسے علاقوں اور دیہاتوں میں کانفرنسز منعقد ہو رہی ہیں جہاں گزشتہ تین سالوں کے دوران اس قسم کی کوئی سرگرمی نہیں ہو سکی تھی۔ یوں تحریک ایسے علاقوں تک پھیلتی جا رہی ہے جو اب تک باقاعدہ منظم انداز میں تحریک کا حصہ نہیں تھے۔
اس لانگ مارچ اور احتجاج کی کال سے کشمیر میں اگلے چند ماہ کے دوران منعقد ہونے والے انتخابات کو بھی غیر یقینی سے دوچار کر دیا ہے۔ 9 جون کے لانگ مارچ کی تیاریوں کے لیے منعقد ہونے والی سرگرمیوں میں عوام کی شمولیت اور جوش و خروش اس قدر زیادہ ہے کہ ابھی تک حکمران طبقات کی پارٹیاں عوام میں کھل کر جانے کی جرات نہیں کر سکے۔ تحریک کے اندر انتخابات کے حوالے سے ایک اختلافی بحث کا آغاز اس وقت ہوا جب چند ماہ قبل تحریک سے وابستہ کچھ افراد اور بعض قوم پرستوں کی جانب سے انتخابات لڑنے کے اعلانات سامنے آئے۔ ابتدا میں جوائنٹ کمیٹی نے ان افراد کی مخالفت کرنے کے بعد ایک آٹھ نکاتی انتخابی اصلاحات کا چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کرتے ہوئے یہ اعلان کر دیا ہے کہ کمیٹی کے تسلیم شدہ مطالبات پر عملدرآمد اور مجوزہ انتخابی اصلاحات کو یقینی بناتے ہوئے انتخابات منعقد کرائے جاتے ہیں تو کمیٹی کو کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔
انتخابات کے سوال پر دو الگ مؤقف موجود ہیں۔ ایک جانب مختلف پارٹیاں اور افراد اپنے طور پر اپنے سیاسی مقاصد کے پیش نظر انتخابات میں حصہ لینے یا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کر چکے ہیں۔ دوسری جانب عوامی ایکشن کمیٹی تحریک کے تسلیم شدہ مطالبات اور انتخابی اصلاحات پر عملدرآمد تک انتخابات کو مسترد کرتے ہوئے لانگ مارچ کی تیاریوں کے عمل میں مصروف ہے۔ انہی دو مختلف بنیادوں پر ہونے والے دو مختلف فیصلے اور سامنے آنے والے دو الگ الگ مؤقف کے حامل لوگوں کے مابین تلخ و تند مباحثہ جاری رہا۔ اس مباحثے کا زیادہ تر مواد انتہائی سطحی اور بعض صورتوں میں ذاتیات کی کردار کشی اور گالم گلوچ پر مبنی ہے جس کی اہمیت غلاظت کے بدبو دار ڈھیر سے بھی کم ہے۔ چونکہ آج کے عہد میں اس قسم کی تکنیک موجود ہے کہ آپ کچرے سے بھی توانائی حاصل کرتے ہوئے اس کا کارآمد استعمال ممکن بنا سکتے ہیں مگر ابھی تک ان مہان مزاحمت کار اور انقلابی دماغوں سے پیدا ہونے والی ذاتیات کی کردار کشی اور گالم گلوچ کی غلاظت کے اس انبار سے کوئی کارآمد شے تخلیق کرنے والی تکنیک دریافت کرنے میں پوری نسل انسانی بے بس ہے۔ اس لیے ہم بھی اس کچرے کو کچھ قابل افسوس اور قابل رحم دماغوں کی خوراک کے طور پر چھوڑنے اور یکسر نظر انداز کرنے پر مجبور ہیں۔
تمام قسم کے تعصبات اور گروہی مفادات سے پاک عوامی تحریک کو آگے بڑھانے والے ہزاروں لاکھوں عوام اور نوجوان یقیناً انتخابات کے سوال کو تحریک کے اجتماعی مفاد کے نقطہ نظر سے دیکھنے اور سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انتخابات لڑنے کا اعلان کرنے والوں کے دلائل یہ ہیں کہ ہمیں حکمرانوں کے لیے انتخابی میدان خالی نہیں چھوڑنا چاہیے۔ بعض افراد بھارتی مقبوضہ کشمیر میں حریت کانفرنس کی مزاحمتی طاقت کے عروج و زوال سے یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ عوامی تحریک کو صرف احتجاجوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اسمبلی تک رسائی کے لیے انتخابات لڑنا از حد ضروری ہیں۔ کچھ گروہ انتخابات لڑنے کا جواز گھڑنے کے لیے نام نہاد ”آزاد“ کشمیر میں الگ سے کسی بڑی تبدیلی کے ہر امکان کو رد کر چکے ہیں۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر کمیٹی 9 جون کو انقلاب کرنے جاتی ہے تو ہم سب سے آگے ہوں گے ورنہ ہم انتخابات تو ہر صورت لڑیں گے۔
بظاہر انتخابات لڑنے والوں اور کمیٹی کے مؤقف میں کوئی بہت بڑا فرق نہیں۔ کمیٹی کا مؤقف ہے کہ انتخابات سے قبل تسلیم شدہ مطالبات اور انتخابی اصلاحات پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے اور اس کے لیے کمیٹی نے 9 جون کی لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے۔ ضروری ہے کہ تحریک سے وابستہ سبھی لوگ دیگر تمام سرگرمیوں کو چھوڑ کر لانگ مارچ کی تیاریاں کریں یعنی انتخابات لڑنے والے بھی اپنی انتخابی مہم کو اعلانیہ بند کرتے ہوئے کمیٹی کے فیصلے کی مکمل تائید و حمایت کریں۔ دوسری جانب انتخابات لڑنے والوں نے بھی ابھی تک کمیٹی کے اس فیصلے کی کھلی مخالفت نہیں کی اور ایک یا دوسری صورت میں انتخابی مہم بند کرتے ہوئے 9 جون کی کال کی حمایت کی جا چکی ہے۔
اس تنازعے کے پس پردہ ایک بنیادی وجہ یہ بھی ہے کہ ان افراد نے کمیٹی کا انتخابات پر مؤقف سامنے آنے سے قبل ہی انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کر دیا تھا۔ کمیٹی کے نقطہ نظر سے ان کے یہ اعلانات ایسے وقت میں تحریک میں ایک پھوٹ ڈالنے کے مترادف ہیں جب کمیٹی حکومت کے خلاف انتہائی اہم اور بڑے معرکے کی تیاریوں کا اعلان کر چکی ہے۔ دوسری جانب کمیٹی تحریک کی قیادت ہونے کے ناطے ان اعلانات کو اپنے لیے ایک چیلنج بھی سمجھتی ہے۔ یعنی اگر ہر علاقے میں تھوڑا یا زیادہ اثر و رسوخ رکھنے والے لوگ جوائنٹ کمیٹی کے فیصلوں اور ڈسپلن کی پابندی نہیں کرتے تو نہ صرف کمیٹی کی بحیثیت قیادت تمام تر اتھارٹی کے خاتمے کا آغاز ہو سکتا ہے بلکہ تحریک کی اجتماعیت ہی ختم ہو سکتی ہے۔ تیسرا اہم عنصر یہ ہے کہ انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کرنے والے زیادہ تر افراد وہی ہیں جو گزشتہ تین سالوں کے دوران مختلف مواقعوں پر مختلف اتحاد بنا کر موجودہ کمیٹی کو کلی یا جزوی طور پر تبدیل کرنے کی ناکام کوششیں بھی کر چکے ہیں۔ ان گروہوں کے کمیٹی کے ساتھ اختلافات اور کمیٹی پر اعتراضات گزشتہ تین سالوں سے موجود ہیں جن کی شدت میں اضافے اور کمی کا سلسلہ چلتا رہتا ہے۔
ان میں سے ایک گروہ کے مطابق نام نہاد ”آزاد“ کشمیر ایک متنازعہ اور منقسم ریاست کا حصہ ہے اور ریاست کا فیصلہ مشترکہ طور پر ہو گا اور یہ کہ سامراجی قبضے کے خاتمے کا امکان بھی تب ہی ہے جب ریاست کے ہر حصے میں بیک وقت آزادی کی کوئی تحریک ابھرے۔ نام نہاد ”آزاد“ کشمیر میں عوامی راج کے قیام کا مطلب یہ ہے کہ پاکستانی ریاست کے قبضے کا بھی خاتمہ ہو لیکن اگر صرف اس حصے سے پاکستانی ریاست کے قبضے کا خاتمہ کر بھی دیا جائے تو ہندوستان قبضہ کر لے گا اس لیے ایسا کرنا حماقت ہو گی۔ آخری صورت یہ ہے کہ برصغیر سے سرمایہ داری کا خاتمہ ہو تو کشمیر میں اس قسم کی تبدیلی ممکن ہے۔ اس لیے موجودہ حالات میں انتخابات لڑنا ہی واحد راستہ ہے۔ اس گروہ نے نہ صرف کسی بڑی تبدیلی کے ہر امکان کو رد کرتے ہوئے پاکستانی ریاست کے بیانیے کو واحد سچ تسلیم کرتے ہوئے اسے نہ صرف بطور مؤقف اپنا لیا ہے، کہ نام نہاد ”آزاد“ کشمیر سے اگر پاکستان کی فوج نکل گئی تو ہندوستان اس پر قبضہ کر لے گا، بلکہ اس کو انقلاب سے خوفزدہ کرنے کے لیے دلیل کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
عمومی طور پر بھی دیکھا جائے تو انتخابات لڑنے والے سبھی گروہوں اور افراد کے دلائل اور سوچوں میں چند چیزیں مشترک ہیں۔ عوامی تحریک کے ابھار اور مزاحمتی سیاست کی عوام میں بے پناہ پذیرائی نے سبھی میں پارلیمان تک پہنچنے اور بڑا لیڈر بننے کی ایک موقع پرستانہ امید پیدا کر دی ہے۔ سبھی انتخابات لڑنے والے خود کو موجود بد عنوان سیاستدانوں کے مقابلے میں عوام کا ہمدرد، ایماندار، عوامی حقوق کا داعی اور پارلیمانی ممبران کو ملنے والے فنڈز کو عوامی کمیٹیوں کے ذریعے خرچ کرنے کے اصولوں پر کار بند رہنے والا ثابت کر رہے ہیں۔ بعض تو عوام کے سامنے انتخابات لڑنے کا جواز پیش کرتے ہوئے یہ تک کہہ چکے ہیں کہ ہم ان حکمرانوں کو دکھا ئیں گے کہ نظام کیسے چلایا جاتا ہے۔ سبھی اس نظام کے نامیاتی بحران کو انتظامی بحران سمجھنے کی غلط فہمی پھیلا رہے ہیں۔ یہ تاریخی طور پر اصلاح پسندی کا المیہ رہا ہے کہ اس کے خیال میں نظام کو چلانے والے اگر بد عنوان نہ ہوں تو نظام ٹھیک ہو سکتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں تمام مسائل کی اصل وجہ نظام کی ساخت اور اس کی تاریخی متروکیت نہیں بلکہ اس کو چلانے والوں کی بدعنوانی اور بد انتظامی ہوتی ہے۔
یہ درست ہے کہ اس نظام میں مسائل کے زیادہ گھمبیر ہونے کی ایک وجہ حکمرانوں اور بیوروکریسی کی بے حد پھیلی ہوئی بدعنوانی بھی ہے۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا بدعنوانی اس نظام کی ساخت اور متروکیت سے جنم لیتی ہے یا چلانے والوں کی بد عنوان فطرت اور لالچ سے؟ ہمارے انتخابات لڑنے والے مہان مزاحمت کاروں کی سوچ و فکر سے لگتا ہے کہ تمام تر بدعنوانی اس نظام کے حکمرانوں کی ذاتی فطرت اور لالچ سے جنم لیتی ہے اور اگر موجودہ بد عنوان حکمرانوں کی جگہ کوئی ان جیسا ایماندار لے لے تو معاملات بالکل نہ سہی بہت حد تک ٹھیک ہو سکتے ہیں۔ یہی بات جب ان سے پوچھی جائے گی تو یقیناً جواب یہ ہو گا کہ نہیں نہیں ہمارا ہر گز یہ مطلب نہیں ہے، ہم جانتے ہیں کہ سرمایہ داری نظام ہی اصل مسائل کی جڑ ہے لیکن اس کو چلانے والوں کی بد عنوانی بھی اپنی جگہ پر ایک مسئلہ ضرور ہے، آپ اس سے انکار نہیں کر سکتے، ہماری اصل جدوجہد تو اس نظام کے مکمل خاتمے کی ہی جدوجہد ہے لیکن وہ بہت طویل ہے، پھر کشمیر کی حد تک تو اس نظام کو بھی تبدیل نہیں کیا جا سکتا چونکہ ہندوستان قبضہ کر لے گا، اس لیے جب تک اس قسم کی تبدیلی کے لیے حالات مکمل طور پر سازگار نہیں ہو جاتے تب تک جو ممکن ہے ہم اس کی بات کر رہے ہیں، اگر اسمبلی میں عوام کے حقیقی نمائندے جائیں گے تو کم از کم وہ وسائل جو یہ حکمران لوٹتے ہیں وہ تو عوام کی فلاح کے لیے خرچ کیے جا سکتے ہیں اور پھر ہمارا اسمبلی میں جانے کا اصل مقصد تو اس حقیقی تبدیلی کی لڑائی، جو اس لیے ممکن نہیں ہے چونکہ ہندوستان قبضہ کر لے گا، کو ہی بڑے پیمانے پر آگے بڑھانا ہے، وغیر وغیرہ۔
انتخابات کے سوال پر جوائنٹ کمیٹی کم از کم ان سے آگے اس لیے ہے کہ کمیٹی نے انتخابات کے سوال کو بھی عوامی مزاحمت کا مرکز و محور بنانے کے لیے تسلیم شدہ مطالبات پر عملدرآمد اور انتخابی اصلاحات کا چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کر دیا ہے۔ اگرچہ مجوزہ انتخابی اصلاحات پر عملدرآمد کسی حد تک ممکن ہے یا نہیں اور ان اصلاحات کے بعد منتخب ہونے والی اسمبلی کا کردار بھی کس حد تک عوام دوست ہو پائے گا یا نہیں؟ یہ سوالات اپنی جگہ موجود ہیں۔ لیکن جوائنٹ کمیٹی تحریک کو آگے بڑھانے کی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے درست طور پر یہ سمجھتی ہے کہ حکمرانوں کی وعدہ خلافیوں کے باوجود اور ان کو نظر انداز کرتے ہوئے حکمرانوں کے اس انتخابی ڈرامے کو منعقد ہونے دینا تحریک کے حوالے سے انتہائی خطرناک ہو گا۔ جوائنٹ کمیٹی کی اپنی تمام کمزوریوں اور خامیوں کے باوجود گزشتہ تین سالوں کے دوران اور اس وقت بھی کمیٹی کے حاسدین و ناقدین، ان تمام گروہوں کی تنقید کو متعصبانہ بنیادوں پر کی جانے والی تنقید میں شمار کیا جا سکتا ہے۔ عملی طور پر یہ گروہ ہمیشہ کمیٹی سے پیچھے اور سیاسی اصطلاحات کی زبان میں دائیں جانب کھڑے نظر آتے ہیں۔ انتخابات کی باقاعدہ تاریخ کا اعلان ہونے سے قبل ہی انہوں نے انتخابات لڑنے کا اعلان کر دیا اور اسی بنیاد پر کمیٹی کی جانب سے ان پر یہ تنقید کسی حد تک درست بھی ہے کہ انہوں نے اپنی ریت برقرار رکھتے ہوئے ایک بار پھر نہ صرف تحریک کو تقسیم کرنے کی کوشش کی بلکہ انتخابات کی جوازیت مہیا کرنے میں حکمران طبقات کی کسی حد تک معاونت کی۔
ایک دلیل یہ بھی دی جا رہی ہے کہ کمیٹی الگ فورم ہے اور ان کی اپنی اپنی الگ پارٹیاں ہیں اس لیے انتخابات لڑنے یا نہ لڑنے کے ان کے فیصلے کو جوائنٹ کمیٹی کے کسی فیصلے کا پابند نہیں کیا جا سکتا۔ یہ سو فیصد درست دلیل ہے لیکن یہ کھلی منافقت اور جھوٹ کا پلندہ اس لیے ہے کہ ابھی تک ان میں سے کسی نے بھی اپنی پارٹی یا تنظیم کے امیدوار کے طور پر انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان نہیں کیا بلکہ ابتدا میں کچھ لوگوں نے باقاعدہ طور پر اپنی علاقائی ایکشن کمیٹی کے نامزد امیدوار کے طور پر اور کچھ ایک نے بعدازاں بالواسطہ انداز میں کمیٹیوں کی حمایت سے بطور مزاحمت کار الیکشن لڑنے کا اعلان کیا ہے۔ جوائنٹ کمیٹی پر یہ تنقید کی جا رہی ہے کہ وہ ہمارے جمہوری حق کی مخالفت کر رہی ہے۔ ایک ایسے وقت میں کہ جب جوائنٹ کمیٹی تحریک کے تسلیم شدہ مطالبات پر عملدرآمد کے لیے ایک بڑی لڑائی کی تیاری کا اعلان کر چکی ہے اس وقت کس جمہوری اصول کے تحت یہ چھوٹ دی جا سکتی ہے کہ کچھ لوگ تحریک کی صفوں میں اس لڑائی کی بجائے اپنی انتخابی مہم کا پرچار کرتے ہوئے عوام میں ابہامات پھیلائیں؟ تمام تر اعتراضات بدترین گروہی موقع پرستی پر مبنی ہیں۔
جوائنٹ کمیٹی پر بڑے زور و شور سے تنقید کی جاتی ہے کہ کمیٹی انقلاب نہیں کرتی، کمیٹی انقلاب کرے تو ہم سب سے آگے ہوں گے، وغیرہ وغیرہ۔ عام سادہ لوح عوام اور کارکنان کے لیے یہ تنقید انتہائی اثر پذیری کی حامل بھی ہے لیکن اگر غور کیا جائے تو یہ انتہائی بھونڈی تنقید ہے جو صرف اپنے گروہی فیصلوں کو جوازیت فراہم کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ یہ درست ہے کہ کمیٹی کا انقلاب کا کوئی فوری پروگرام نہیں ہے لیکن کمیٹی سے فوری انقلاب کا تقاضا کرنے والوں کا اپنا کیا پروگرام ہے؟ اگر کمیٹی پر فوری انقلاب نہ کرنے کی تنقید کو انتخابات کی جوازیت کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے اور ان گروہوں کا اپنا بھی انقلاب کا کوئی فوری پروگرام نہیں ہے تو اس سے صاف ظاہر ہے کہ یہ دلیل اور انقلاب کی بڑھک بازی کو اپنے گروہی مقاصد کی پردہ پوشی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ کمیٹی انقلاب سے گریزاں ہے، مصلحت پسندی سے کام لے رہی ہے تو انقلاب کے بلند و بانگ دعویداروں کو انقلاب کی لڑائی کا پروگرام پیش کرتے ہوئے لڑائی کو آگے بڑھانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ لیکن ایسا کرنے کی بجائے انقلاب کے معروضی امکانات کو ہی رد کرتے ہوئے تحریک کی ایک بڑی لڑائی کے دوران انتخابات میں حصہ لینے کے اپنے فیصلوں کو جواز فراہم کرنے کی خاطر انقلاب، انقلاب کی رٹ لگائی جاتی ہے۔ یہ انقلاب کے فریضے کی معاونت نہیں بلکہ انقلاب کے انتہائی اشتعال انگیز شور شرابے کے ذریعے صرف انقلاب سے انحراف کی پردہ پوشی ہے۔
گزشتہ دنوں حکمرانوں نے ایک آل پارٹیز کانفرنس منعقد کی جس کا اعلامیہ یہ تھا کہ حقوق کی تحریک کے نام پر متوازی سیٹ اپ قابل قبول نہیں۔ حکمرانوں کا یہ اجتماعی اعتراف کس جانب اشارہ کر رہا ہے؟ یہ واضح طور پر عوامی تحریک کی طاقت اور اس کے انقلابی امکان کی جانب اشارہ ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ تحریک میں ایک انقلابی حکومت کے قیام کی امکانی صلاحیت موجود ہے جس کا خوف حکمرانوں کے اعصاب پر سوار ہو چکا ہے۔ یہ تحریک کی معروضی طاقت کا اعتراف ہے جس کا اظہار ایک خوف کی صورت میں دشمن طبقات کی جانب سے کیا جا رہا ہے۔ تحریک کی کامیابی کے راستے میں حائل رکاوٹیں، مشکلات اور خطرات سمیت تحریک کی موضوعی کمزوریوں کے سوالات سنجیدہ بحث کے متقاضی ہیں لیکن اس سب کے باوجود تحریک کی طاقت اور اس کے انقلابی امکانات سوائے قنوطیوں کے سبھی پر روز روشن کی طرح عیاں ہو چکے ہیں۔
عوامی تحریک کے نقطہ نظر سے بھی یہ فیصلہ درست اس لیے ہے کہ انتخابات کا ڈھونگ رچانا حکمرانوں اور ان کے اس استحصالی طبقاتی حاکمیت کے نظام کی ضرورت اور مجبوری ہے۔ انتہائی جمہوری اور شفاف انتخابات کے انعقاد کا بھی اس نظام میں واحد مقصد یہ ہوتا ہے کہ ایک مقررہ مدت کے بعد دوبارہ عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے والی حکومت جیسی جعلسازی کے تاثر کو برقرار رکھا جائے۔ لٹیرے حکمرانوں کے ایک ٹولے کی جگہ دوسرے ٹولے کو عوام پر مسلط کرتے ہوئے اس نظام کے استحصال اور لوٹ مار کو جوازیت فراہم کی جائے۔ اس صورتحال میں انتخابات کے موقع پر عوامی تحریک کو آگے بڑھانا درست عمل ہے یا تحریک کے تسلیم شدہ مطالبات پر عملدرآمد کے سوال کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے حکمرانوں کے اس انتخابی ڈھونگ کا حصہ بننا درست ہے؟ تحریک کی اجتماعیت کو قائم رکھنا ضروری ہے یا اپنے گروہی مفادات کے پیش نظر اس میں پھوٹ ڈالنا؟ یہ وہ عام سے بنیادی سوالات ہیں جن کے پیش نظر انتخابات کے سوال پر اپنا مؤقف بنانے کی ضرورت ہے۔ مزاحمتی جدوجہد کے ذریعے اپنے کچھ مطالبات تسلیم کرانے کا عمل ترقی پسندانہ ہے یا جدوجہد کو ترک کرتے ہوئے انتخابات میں حصہ لینا؟ جدوجہد کے ایک نئے معرکے کے ذریعے حکمران طبقے اور اس نظام کے عوام دشمن کردار کو عوام کے سامنے مزید ننگا اور بے وقعت کرنا مزاحمت کاری ہے یا اس لڑائی کو ادھورا چھوڑ کر انتخابات کا ڈھول بجانا؟
حیران کن بات یہ ہے کہ مزاحمت کے داعی مزاحمتی تحریک کو منظم کرنے کی بجائے انتخابی مہم کو زیادہ ترجیح دے رہے ہیں۔ ان کے خیال میں عین انتخابات کے وقت عوام کی مزاحمتی تحریک کو حکمرانوں کے اس انتخابی ڈھونگ، ان کی لوٹ مار، بدعنوانیوں اور استحصال کے خلاف منظم کرنا انقلابی کارکنان کے لیے نقصان دہ ہے جبکہ حکمرانوں کی طرز پر انتخابی مہم چلانا مزاحمتی سیاست کے لیے سود مند ہے۔ اس تمام تر انتشار کو کسی حد تک روکنے اور قابو میں لانے کے لیے کمیٹی نے انتخابات لڑنے والوں کے خلاف کمیٹی کا نام نہ استعمال کرنے جیسے دیگر کچھ ضابطے بھی تشکیل دیے ہیں۔ کمیٹی اس وقت تحریک کی قیادت کر رہی ہے اور بقا کے عام قاعدے کے مطابق وہ تحریک پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کی خاطر اپنے مخالفین کا راستہ روکنے کے لیے کسی بھی قسم کے ضابطے بنا سکتی ہے۔ کمیٹی کی مخالفت کے بعد ان تمام گروہوں کو ایک یا دوسری صورت میں انتخابی عمل سے کسی حد تک پیچھے ہٹنے پر مجبور ہونا پڑا جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ان کی یہ پالیسی غلط تھی، تحریک کی موجودہ کیفیت میں ان میں سے کوئی گروہ بھی کمیٹی کے مکمل خلاف جانے کی جرات اور طاقت نہیں رکھتا، یہ تمام گروہ موقع پرستانہ انداز میں کمیٹی یا تحریک کے نام پر اپنی انتخابی مہم چلانے کی کوشش کر رہے تھے اور اپنی کمزوری کے باعث یہ وقتی طور پر پسپائی اختیار کرنے پر مجبور ہوئے ہیں لیکن یہ اپنی اس گروہی روش کو مکمل طور پر کبھی ترک نہیں کر سکتے۔ کمیٹی کی پالیسیوں سے اختلاف رکھنے والے ہر سیاسی رحجان کو اپنے مؤقف پر عوام کی اکثریت کو جیتنا پڑے گا دوسرا کوئی راستہ نہیں ہے۔
بعض حلقوں کے مطابق کمیٹی کے اس اقدام سے ایسے امکانات کا جنم ممکن ہے کہ حالات کی خرابی کا جواز بناتے ہوئے کشمیر میں ایمرجنسی کا نفاذ کر دیا جائے اور اس لولے لنگڑے جمہوری نظام کی بساط ہی لپیٹ دی جائے اس لیے ڈھکے چھپے الفاظ میں یہ کہنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ کمیٹی کو انتخابات کے موقع پر کسی بھی قسم کا کوئی احتجاج کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ ایسی ممکنہ صورتحال کو 5 اگست 2019ء میں بھارتی مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے جیسے عمل کے یہاں دوہرائے جانے جیسے خدشات سے بھر پور قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ خدشات اور اس پر تبصرے بھی دلچسپ اس لیے ہیں کہ اس کے صاف معنی یہ ہیں کہ کمیٹی کو ایسا کوئی قدم نہیں اٹھانا چاہیے جس سے موجودہ صورتحال میں کوئی بڑی مثبت یا منفی تبدیلی پیدا ہونے کا خدشہ ہو۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہا جا رہا ہے کہ اسٹیٹس کُو کو برقرار رکھنے کی خاطر اگر تحریک کو روکنا یا پیچھے دھکیلنا پڑتا ہے تو کمیٹی کو ایسا ہی کرنا چاہیے۔
یہ درست ہے کہ انقلابی ہمیشہ کسی بھی طرز کے آمرانہ نظام حاکمیت کے مقابلے میں لولی لنگڑی جمہوریت کو ترجیح دیتے ہیں۔ لیکن اس ترجیح کی اصل وجہ وہ چھوٹے موٹے جمہوری حقوق ہوتے ہیں جو کسی بھی مزاحمتی یا عوامی تحریک کو منظم کرنے کے لیے ضروری ہوتے ہیں اور اس کے علاوہ کوئی دوسری وجہ نہیں ہوتی چونکہ سرمایہ داری میں حکمرانی کی طرز جمہوری ہو یا آمرانہ اس میں محنت پر سرمائے کی حاکمیت ہر دو صورتوں میں قائم رہتی ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ اس نظام میں جمہوریت اس لیے قابل ترجیح نہیں ہے کہ اس جمہوریت اور پارلیمانی انتخابی نظام کے ذریعے محنت کش حکمران بنتے ہوئے تمام وسائل پر اپنا اجتماعی کنٹرول قائم کر لیں گے اور یوں ان کی نجات ممکن ہو پائے گی۔ ایسا ممکن ہوتا تو پارلیمانی جمہوریت کے نظام کی بنیاد رکھنے والے برطانیہ اور فرانس جیسے دیگر ممالک میں صدیوں نہیں تو کئی دہائیاں قبل ایسا ہو چکا ہوتا۔ لیکن اس سے زیادہ احمقانہ دلیل کیا ہو گی کہ عوامی تحریک کو آگے نہیں بڑھنا چاہیے کیونکہ اس کی پیش رفت سے اس لولی لنگڑی جمہوریت کو خطرہ ہو سکتا ہے۔ اس لولی لنگڑی جمہوریت کے خاتمے کے بعد کیا ہو گا؟ کیا صرف ایمرجنسی واحد متبادل ہے؟ کیا کشمیر کے لاکھوں متحرک عوام جو اپنے بنیادی حقوق کے حصول کی خاطر تین سال سے جدوجہد کی نئی عظیم تاریخ رقم کر چکے ہیں وہ اس ایمرجنسی کے نفاذ کو خاموشی سے قبول کرتے ہوئے اپنی لڑائی کو ترک کر دیں گے؟ کیا یہ ممکن نہیں کہ حکمرانوں کی جانب سے مارا جانے والا ایمرجنسی جیسا شب خون عوام کے سامنے ایک متبادل عوامی انقلابی حکومت کے قیام کے راستے کو بالکل واضح کر دے گا اور اس کے راستے میں موجود تمام نام نہاد قانونی، آئینی و اخلاقی رکاوٹیں خود ختم کر دے گا؟ اگرچہ ایمرجنسی کے نفاذ کا غالب امکان نہیں ہے لیکن ایک مفروضے کے طور پر بھی اس کو زیر بحث لایا جائے تو تحریک کی موجودہ صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسے کسی بھی حکومتی اقدام سے کئی ایک انقلابی امکانات جنم لے سکتے ہیں۔
اس بحث کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ اگر ایسے کوئی حالات جنم لیتے ہیں تو ان کی تمام تر ذمہ داری حکمرانوں پر عائد ہوتی ہے۔ اکتوبر 2025ء میں نوے دن کے اندر تمام تسلیم شدہ مطالبات پر عملدرآمد کا معاہدہ کرنے کے بعد حکمرانوں نے بدترین عہد شکنی کی ہے اور آٹھ ماہ گزر جانے کے باوجود اس ضمن میں کوئی پیش رفت نہیں کی۔ تقریباً تین ماہ قبل لانگ مارچ کی کال دی گئی تھی اور 31 مئی تک مذاکرات کے ذریعے عملدرآمد کو یقینی بنانے کی ڈیڈ لائن دیے جانے کے باوجود حکمرانوں نے اس معاملے پر سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ حکمرانوں کی اس تمام مجرمانہ غفلت کے باوجود ان تمام لوگوں کا رویہ انتہائی افسوس ناک ہے جو اس قسم کے کسی بھی ممکنہ خدشے کے حوالے سے جوائنٹ کمیٹی کو ذمہ دار سمجھتے ہیں یا اس سے کسی بھی قسم کا سوال کرتے ہیں۔ ایسے تمام لوگ درحقیقت حکمرانوں کی گماشتگی کا کردار ادا کر رہے ہیں جو نہ صرف قابل افسوس بلکہ قابل مذمت بھی ہے۔
9جون کے لانگ مارچ کی کال اب حکمران طبقات کے لیے ایک سنجیدہ مسئلہ بن چکا ہے۔ لاکھوں کی تعداد میں پورے کشمیر سے عوام کا مظفرآباد کی جانب مارچ اور دھرنا حکمرانوں کے لیے اس وجہ سے بھی ایک ڈراؤنا خواب بن چکا ہے کہ اس سے قبل دو مرتبہ عوام کو کوہالہ کے مقام پر روک دیا گیا تھا مگر اس مرتبہ کمیٹی نے واضح اعلان کر رکھا ہے کہ راستے میں کہیں کوئی پڑاؤ نہیں ہو گا اور تمام قافلے سیدھے مظفر آباد جائیں گے۔ مارچ کی تیاریوں میں ماضی کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ جوش خروش کی موجودگی اور عوام کی اتنی بڑی تعداد میں مظفر آباد آمد از صورتحال میں ڈرامائی تبدیلی کا موجب بن سکتی ہے۔ لاکھوں عوام کا مظفر آباد کی جانب مارچ اور اس دوران راستے میں ریاستی جبر کے ذریعے مارچ کو روکنے کے اقدامات سے پیدا ہونے والی تصادم اور خونریزی کی صورتحال عوام کے اشتعال کو بے قابو کر سکتی ہے۔ اگر ایسا کوئی ناخوشگوار واقع رونما نہیں ہوتا پھر بھی عوام کی زیادہ بڑی تعداد کی شہر اقتدار میں موجودگی طاقت کے توازن کو عوام کے حق میں تبدیل کر دے گی جس کے باعث حکمرانوں اور کسی حد تک کمیٹی کے لیے بھی مشکلات میں بے حد اضافہ ہو جائے گا چونکہ حکمرانوں کی مسلسل بد عہدیوں کے باعث عوام اور نوجوانوں میں شدید غم و غصہ موجود ہے۔
اسی لیے یہ دکھائی دے رہا ہے کہ حکمران جلد از جلد کمیٹی کے ساتھ معاملات طے کرنے اور 9 جون کی کال کو واپس کرانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ حکمران طبقات کے اندر بھی بالخصوص مہاجرین مقیم پاکستان کی 12 نشستوں کے خاتمے کے حوالے سے ایک پھوٹ موجود ہے۔ مسلم لیگ ن کی یہ کوشش ہے کہ نشستیں نہ ختم ہوں جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کی خواہش ہے کہ تحریک کے دباؤ پر یہ نشستیں ختم ہو جائیں۔ کل 12 میں سے 9 پنجاب، ایک خیبر پختونخواہ اور دو سندھ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں ہیں۔ یوں پنجاب کی 9 نشستیں زیادہ تر ن لیگ کو ہی دی جاتی ہیں اس لیے پیپلز پارٹی اپنے گروہی مفادات کے پیش نظر ان سیٹوں کے خاتمے کے حق میں ہے۔ لوٹ کے مال میں حصہ داری میں کمی کے خدشات اس قدر بڑھ چکے ہیں کہ بلاول بھٹو گلگت میں پارٹی کے انتخابی جلسے میں اپنی تقریر کے دوران وزارت امور کشمیر اور گلگت بلتستان کے خاتمے اور تمام اختیارات گلگت اور مظفرآباد کی اسمبلیوں کو منتقل کرنے کی تجویز تک پیش کر چکا ہے۔ درحقیقت ان منافقانہ بیانات کے پس پردہ نہ صرف جی بی اور کشمیر میں حکومت نہ ملنے کا دکھ ہے بلکہ اس کے ساتھ اٹھائیسویں ترمیم میں مبینہ طور پر گوادر کے ساتھ کراچی کو بھی براہ راست وفاق کے کنٹرول میں لینے جیسی تجاویز ہیں جن پر عملدرآمد کی صورت میں پی پی پی کو کراچی جیسے پاکستان کے سب سے بڑے تجارتی اور صنعتی شہر سے لوٹی جانے والی دولت سے ہاتھ دھونے کا خوف ہے۔ پی پی پی کی لوٹ مار کا عالم یہ ہے کہ سندھ میں گزشتہ اٹھارہ سالہ حکومت کے دوران تقریباً ساڑھے سات ہزار ارب روپے کے ترقیاتی فنڈ مختص کیے گئے لیکن اس کے باوجود نہ صرف اندرون سندھ کے عوام تمام بنیادی سہولیات سے محروم ہیں بلکہ کراچی شہر کے عوام بھی سڑکوں، پانی، بجلی اور نکاسی جیسی دیگر سہولیات کی خستہ حالی کے باعث جہنم سے بدتر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ یہ تمام ترقیاتی فنڈ پی پی پی کے حکمرانوں کی لوٹ مار اور عیاشیوں کی نذر ہو گیا اور آج یہ لٹیرے حکمران کشمیریوں کے منافقانہ ہمدرد بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ حکمرانوں کی پھوٹ بھی اس معاملے میں پیش رفت کے راستے میں ایک رکاوٹ ہے۔ اگرچہ ان نشستوں کو باقی رکھنا کا ایک بھونڈا جواز یہ بھی پیش کیا جاتا ہے کہ ان کا تعلق تحریک آزادی سے ہے۔ ان نشستوں کو باقی رکھنے کے لیے اب آل پارٹیز کانفرنس ممکنہ طور پر 5 جون کو منعقد کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ آل پارٹیز کانفرنس کے ذریعے ایک جانب ان تمام پارٹیوں اور قائدین، جنہیں تحریک نے مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے، کے مردہ گھوڑوں کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کی جائے گی اور دوسری جانب ان پارٹیوں کو کمیٹی اور عوام کے مقابلے میں ایک متبادل کے طور پر پیش کیا جائے گا۔
انقلابی کمیونسٹ پارٹی اس آل پارٹیز کانفرنس کے انعقاد کو مکمل طور پر مسترد کرتی ہے جس کا کوئی سیاسی اور اخلاقی جواز اس لیے موجود نہیں ہے کہ گزشتہ تین سال کے دوران کشمیر کے لاکھوں محنت کش عوام نے تحریک اور کمیٹی کے پلیٹ فارم سے ان کے خلاف اپنے نمائندہ نہ ہونے کا اعلان کر رکھا ہے۔ یہ پارٹیاں سوائے حکمرانوں کی چھوٹی چھوٹی ٹولیوں اور اپنے آقاؤں کے علاوہ کسی کی نمائندگی نہیں کرتیں بالخصوص یہ کشمیر کے محنت کش عوام کے کسی چھوٹے سے حصے کی بھی نمائندہ نہیں ہیں اس لیے تحریک کے اس فیصلہ کن موقع پر ان پارٹیوں کو سامراجی حکمرانوں کے سہارے تحریک کے مطالبات کے حوالے سے حصہ دار بنانے کی مذموم سازش کی ہم بھر پور مذمت کرتے ہیں۔ اس کو آل پارٹیز کانفرنس نہیں بلکہ تحریک کے خلاف آل پارٹیز سازش کا نام دینا زیادہ مناسب ہے۔
معروضی طور پر دیکھا جائے تو کشمیر کے عوام ایک مکمل انقلابی تبدیلی کے لیے ہر قسم کی قربانی دینے کو تیار ہیں۔ عوام نے گزشتہ مارچوں کے دوران بھی ریاست کے وحشیانہ جبر کو شکست دیتے ہوئے تحریک کے مختلف مراحل کی کامیابی کو یقینی بنایا۔ عوام کی بے پناہ جرات اور اپنے حقوق کے حصول کے لیے ہر طرح کی قربانی دینے کے انقلابی جذبے ہی تحریک کی حقیقی قوت محرکہ ہیں۔ تین سال میں کم از کم دو سے تین مرتبہ ایسی صورتحال پیدا ہو چکی تھی جہاں ریاست ہوا میں معلق تھی اور طاقت سڑکوں پر بکھری پڑی تھی۔ لیکن انقلابی نظریات سے لیس منظم انقلابی پارٹی کی رہنمائی نہ ہونے کے باعث نظام تبدیل نہیں کیا جا سکا۔ کمیٹی کوئی انقلابی پارٹی نہیں ہے اور نہ ہی انقلابی پارٹی کا نعم البدل ہو سکتی ہے۔ تمام تر خامیوں اور کمزوریوں کے باوجود کمیٹی عوام کو یکجا اور متحد رکھتے ہوئے تحریک کو انتہائی سست رفتاری سے ہی سہی مگر آگے بڑھانے میں تاحال کافی حد تک کامیاب ہے۔ انقلابی تبدیلی کے نظریے سے عاری ہونے کے باعث کمیٹی کے پاس اسی نظام کے اندر رہتے ہوئے بتدریج کچھ نہ کچھ حاصل کرتے رہنے کی جدوجہد کو جاری رکھنے کے سوا کوئی دوسرا راستہ بھی نہیں ہے۔ سرمایہ داری نظام کی حرکیات اور ساخت کی سمجھ بوجھ نہ ہونے کے باعث تحریک کو پاکستان کے محنت کش طبقے کے ساتھ جوڑنے کے لیے بھی کوئی اقدامات نہیں کیے جا رہے اور تحریک کی ایک چھوٹے سے خطے تک محدودیت اس کی ایک بڑی معروضی کمزوری ہے جو موضوعی کمزوریوں میں اضافہ کرتی جا رہی ہے۔ تحریک کا اس وقت سب سے بڑا بحران ہی نظریات اور انقلابی سائنسی پروگرام سمیت ایک منظم انقلابی پارٹی اور قیادت کا بحران ہے۔ وہ تمام سیاسی کارکنان جن کو کمیٹی کے کردار پر اعتراضات اور تحریک کے مستقبل کے حوالے سے سنجیدہ تشویش ہے انہیں انتخابات میں حصہ لینے یا نہ لینے سمیت دیگر تمام سطحی بحثوں کو نظر انداز کرتے ہوئے سوشلزم کمیونزم کے سائنسی نظریات کو سیکھتے ہوئے ایک انقلابی پارٹی کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔
تحریک کے حوالے سے بھی سب سے اہم اور سنجیدہ سوال یہ ہے کہ یہ اپنے موجودہ تحرک کو مزید کتنا عرصہ قائم رکھ پائے گی۔ کسی بھی تحریک کی ساخت دو اہم عناصر پر مشتمل ہوتی ہے جن کا باہمی دو طرفہ جدلیاتی تعلق اور دو طرفہ اثر پذیری اس پورے عمل کو آگے بڑھانے میں بنیادی کردار کرتے ہیں۔ پہلا عنصر کسی بھی خطے میں رائج نظام کے پیدا کردہ مسائل اور مظالم کے خلاف محنت کش عوام میں کے شعور میں مجتمع ہونے والے غم و غصے اور نفرت کا اس حد تک بڑھ جانا جہاں کوئی بھی چھوٹا سا واقعہ تمام تر صورتحال کو دھماکے سے پھاڑ دیتا ہے۔ دنیا کے تمام خطوں میں ابھرنے والی تحریکوں کی یہی اپنی حرکیات ہیں جو سماج کے معروضی قوانین کے تابع ارتقا کے مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے سطح پر ابھر کر اپنا اظہار کرتی ہیں۔ دوسرا عنصر ان ابھرنے والی تحریکوں کی قیادت ہوتی ہے۔ قیادت کے ابھرنے کا عمل بھی تحریک کی اپنی بڑھوتری کے مختلف مراحل کے دوران پہل گامی اور جرات کرنے والوں کے کردار پر منحصر ہوتا ہے۔ ہر تحریک اپنے معروضی قوانین کے تابع ایک خاص وقت میں حالات کے ایک مخصوص امتزاج سے جنم لیتی ہے اور پھیلتی ہے اور اسی دوران وہ ایک یا دوسری قیادت کو سامنے لاتی ہے۔ تحریک کی اپنی پیش رفت مختلف مراحل پر نئی زیادہ جرات مند قیادت کے ابھرنے کے امکانات پیدا کرتی ہے۔
تحریک کی معروضی بڑھوتری کے تمام مراحل، رفتار، سمت اور تضادات کے عمل کی کلیت میں درست سائنسی سمجھ بوجھ حاصل کرتے ہوئے حتمی لڑائی کی تیاری کو تیزی سے آگے بڑھانا ہی انقلابی کمیونسٹوں کا تاریخی فریضہ ہے۔ لیکن اس کے ساتھ تحریک کے ہر مرحلے پر حکمرانوں کے خلاف لڑائی میں محنت کش عوام اور نوجوانوں کی پر جوش شمولیت کے لیے عملی کردار ادا کرنا بھی ضروری ہوتا ہے۔ کمیونسٹوں کا فریضہ ہے کہ وہ تحریک میں شمولیت اختیار کرنے والے محنت کشوں اور بالخصوص نوجوانوں کے شعوری معیار میں بڑھوتری کے لیے عملی کردار ادا کریں۔ کشمیر جیسے پسماندہ معاشرے میں شخصیت پرستی کے رحجانات کے تیزی سے پھیلنے کے انتہائی زرخیز مادی حالات موجود ہیں۔ درحقیقت شخصیت پرستی کا پھیلاؤ اور عظیم شخصیات کا ابھار ایک ہی پسماندہ مادی بنیاد کی پیدا کردہ ثقافتی پسماندگی اور محرومی کی پیداوار ہے۔ جہاں ایک جانب مادی و ثقافتی پسماندگی اور محرومی بے شمار کچلی ہوئی استحصال و افلاس زدہ روحوں میں اپنی شعوری و لا شعوری آرزوؤں اور تمناؤں کے اظہار کے لیے کسی نجات دہندہ کی تلاش یا انتظار کے رحجان کو پیدا کرتی ہے جو ایک قسم کے احساس محرومی کا اظہار ہوتا ہے وہیں انہی بنیادوں سے جنم لینے والے احساس محرومی کا دوسرا اظہار چند افراد میں نجات دہندہ بننے کے رحجان کو فروغ دیتا ہے۔ شخصیات کی پرستش کرنے والے جہاں احساس محرومی کے ایک پہلو کو ظاہر کرتے ہیں، وہیں نجات دہندہ کہلائے جانے والے بھی احساس محرومی کے ہی ایک پہلو کا دوسرے طریقے سے اظہار کر رہے ہوتے ہیں۔ اس رحجان کے خلاف جدوجہد محض تقاریر کے ذریعے ممکن نہیں بلکہ جدوجہد میں شریک محنت کشوں اور نوجوانوں کی درست سائنسی نظریات پر تربیت اور اس سائنسی سچائی کے فروغ کے ذریعے ممکن ہے کہ محنت کش عوام کی نجات کسی نجات دہندہ کے ذریعے ممکن نہیں بلکہ محنت کش اجتماعی طور پر خود اپنی نجات کو یقینی بنا سکتے ہیں۔
کشمیر کی عوامی تحریک کے موجودہ مرحلے کی جزوی یا کلی کامیابی تحریک کو ایک بلند مرحلے کی جانب لے جائے گی۔ اس وقت کشمیر میں محکمہ صحت اور دیگر ملازمین کی اپنے مطالبات کے حوالے سے احتجاج بھی جاری ہیں۔ کشمیر کی عوامی تحریک بہت حد تک اب خدمات کے شعبے کے محنت کشوں کے احتجاجوں کا بھی محور بنتی جا رہی ہے۔ تمام شعبوں کے محنت کشوں کے اپنے اتحاد اور جڑات میں کمزوری ان محنت کشوں کو عوامی تحریک کی جانب دیکھنے پر مجبور کر رہی ہے۔ اس میں جہاں محنت کشوں کی اپنی تنظیموں اور اتحاد کی کمزوری شامل ہے وہیں عوامی تحریک کی بے پناہ طاقت بھی ایک فیصلہ کن عنصر ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام کا بڑھتا ہوا زوال اور بحران محنت کشوں کے مسائل میں روز بروز اضافے کا باعث بن رہا ہے اور اس صورتحال میں تحریک کی جزوی کامیابیوں کے باوجود یہ احساس شعوری ادراک میں تبدیل ہوتا جائے گا کہ اس نظام کی حدود میں رہتے ہوئے کسی بھی پیمانے کی اصلاحات محنت کشوں کی زندگیوں میں خوشحالی نہیں لا سکتیں۔ یہی شعوری ادراک ان تحریکوں کو اس نظام کے خلاف فیصلہ کن لڑائی کی جانب آگے بڑھائے گا۔ آنے والے عرصے میں پورے ایشیا اور بالخصوص پاکستان میں ابھرنے والی تحریکیں کشمیر کی عوامی تحریک کو نئی شکتی اور حوصلہ فراہم کریں گی۔ پاکستان میں تحریک کے ابھرنے کے حوالے سے مایوسیوں کا شکار قنوطیت پسندوں اور قومی تنگ نظری سے لبریز سبھی متعصب دماغوں کی تمام ناامیدیوں کے باوجود پاکستان بھر میں محنت کشوں کی عظیم تحریکیں ابھریں گی جو اس نظام کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیں گی۔ سبھی باشعور سیاسی و انقلابی کارکنان کا یہ فریضہ بنتا ہے کہ وہ اپنے دماغوں کو ہر قسم کی مایوسی اور شکست خوردگی سے پاک کرتے ہوئے فوری کامیابیوں اور شکستوں کے سحر میں مبتلا ہوئے بغیر اس نظام کے خلاف حتمی لڑائی کی تیاری کریں۔
اس نظام کے خلاف فیصلہ کن لڑائی کی تیاری مارکسزم کے نظریات کو سیکھتے ہوئے انقلابی کمیونسٹ پارٹی کی تعمیر کے بغیر ممکن نہیں۔ جب سبھی نے انقلاب کے امکان کو رد کر دیا ہے اس وقت بھی انقلابی کمیونسٹ پارٹی کمیونزم کے سائنسی نظریات کی بنیاد انقلاب پر غیر متزلزل یقین رکھتے ہوئے نظریات کے پھیلاؤ کی جدوجہد کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ کمیونزم کے سائنسی نظریات پر کاربند ایک انقلابی پارٹی کی تعمیر کے عمل کو تیز تر کرنا ہی مستقبل کی تیاری کا واحد راستہ ہے۔
٭٭٭
Share this content:


