پاکستان کے زیر انتظام کشمیر مہاجرین نشستوں کے معاملے میں بلائی جانے والی آل پارٹیز کانفرنس میں وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور کی جانب سے جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو دعوت دی گی تھی جس کے جواب میں جموں کشمیر جوئنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے اپنا تحریری جواب پبلش کر دیا۔
کور ممبر شوکت نواز میر کی جانب سے لکھے گے اس خط میں کہ گیا ہے کہ آپ کی جانب سے کل جماعتی مشاورتی اجلاس میں شرکت کی دعوت موصول ہوئی۔ اس نسبت جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا موقف واضح ہے کہ 30 مئی کے مذاکرات کے دوران حکومت پاکستان اور آزاد کشمیر کی جانب سے دی گئی اس تجویز کو واضح دلائل کی بنیاد پر قبول کرنے سے انکار کر دیا گیا تھا۔ اس مرحلہ پر نا انصافی، بنیادی حقوق کی پامالی اور عدم مساوات پر مبنی ڈھانچہ سے مستفید ہونے والوں سے مشاورت استحصال کے شکار عام آدمی کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔
لہذا جموں کشمیر جو ائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اس اجلاس میں عدم شرکت کے اپنے فیصلے پر قائم ہے۔ امید ہے کہ آپ سمیت دیگر ذمہ داران 4 اکتوبر 2025ء کے معاہدہ پر مکمل عملدرآمد کیلئے کسی سنجیدہ اور نتیجہ خیز کوشش کی جانب بڑھیں گے۔
دوسری جانب تقریبا ًدو گھنٹے سے آل پارٹیز کانفرنس جاری ہے جس میں چار سابق وزیراعظم موجودہ وزیراعظم اپوزیشن لیڈر اور دیگر جماعتوں کے سربراہان شامل ہیں۔
Share this content:


