مظفر آباد / راولاکوٹ/کاشگل نیوزخصوصی رپورٹ
حکومتِ پاکستان، حکومتِ آزاد کشمیر اور جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان مذاکرات کی حتمی ناکامی کے بعد پورے خطے میں سیکیورٹی صورتحال شدید کشیدہ اور دھماکہ خیز ہو چکی ہے۔
حکومت کی جانب سے پاکستان سے 14 ہزار اضافی فورسز کے اہلکاروں کو کشمیر میں تعینات کیے جانے کے بعد پرامن مظاہرین کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن شروع کر دیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں اب تک ایک شخص ہلاک اور متعدد کے زخمی ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے۔
مذاکرات کی ناکامی اور تنازع کا اصل پسِ منظر (12 مہاجرین نشستیں)
ذرائع کے مطابق، جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور حکومت پاکستان اور حکومت آزاد کشمیر کے درمیان ڈیڈ لاک کی بنیادی وجہ آزاد کشمیر اسمبلی کی وہ 12 نشستیں ہیں جو پاکستان میں مقیم کشمیری مہاجرین کے لیے مخصوص ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ ان 12 نشستوں پر منتخب ہونے والے افراد کا تعلق براہِ راست پاکستانی فوج اور مقتدر حلقوں سے ہوتا ہے، اور انہی نشستوں کے سہارے پاکستان آرمی کشمیر اسمبلی اور خطے کے سیاسی نظام کو مکمل طور پر کنٹرول کرتی ہے۔ ایکشن کمیٹی ان 12 مہاجرین نشستوں کا فوری خاتمہ چاہتی ہے، تاہم حکومتِ پاکستان، پاک فوج اور کشمیر کی حکومت اس خاتمے کے سخت خلاف ہے۔
مذاکرات میں اس نکتے پر ناکامی کے بعد، عوامی ایکشن کمیٹی نے 9 جون کو لانگ مارچ کی کال دی تھی۔ تاہم، حکومت نے اس مارچ کو روکنے کے لیے جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم تنظیم قرار دیکر 9 جون کی لانگ مارچ کی مقررہ تاریخ سے پہلے ہی پورے خطے میں کریک ڈاؤن کا آغاز کر دیا۔
انٹرنیٹ بلیک آؤٹ اور مواصلاتی ناکہ بندی
گزشتہ روز 5 جون کو حکومت نے پورے آزاد کشمیر میں موبائل، فون سروسز اور انٹرنیٹ کو مکمل طور پر معطل کر دیا ہے، جس کے باعث خطے کا دنیا سے رابطہ کٹ گیا ہے اور مکمل بلیک آؤٹ ہے۔ فورسز نے علاقے کے تمام داخلی و خارجی راستوں کا کنٹرول سنبھال لیا ہے اور کسی بھی قسم کی نقل و حرکت پر سخت پابندیاں عائد ہیں۔
کھائیگلہ واقعہ: عمومی رہنما عمر نذیر کشمیری زخمی، ساتھی ہلاک
موصولہ اطلاعات کے مطابق، کھائیگلہ برمنگ پل کے قریب فورسز نے ایکشن کمیٹی کے قافلے پر براہِ راست فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں کمیٹی کے اہم رہنما عمر نذیر کشمیری کان کے قریب گولی لگنے سے شدید زخمی ہو گئے، جبکہ ان کے سینیئر ساتھی شاہزیب حبیب موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔
عمر نذیر کشمیری زخمی حالت میں ایک مقامی گھر کے برآمدے تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے، جہاں مقامی آبادی نے انہیں ابتدائی طبی امداد دی اور بعد ازاں سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر ایک محفوظ مقام پر منتقل کر دیا۔ زیادہ خون بہہ جانے کے باعث وہ گفتگو کے قابل نہیں ہیں، تاہم انہوں نے اپنے ایک پیغام میں عوام الناس سے اپیل کی ہے کہ: "کل عوام سر پر کفن باندھ کر راولاکوٹ شہر کا رخ کریں اور بااثر افراد مساجد میں اس حوالے سے اعلانات کروائیں”۔
کئی رہنما لاپتہ اور زخمی حالت میں گرفتاری کا خدشہ
عمر نذیر کشمیری کے چار قریبی ساتھی توصیف ریاض، شہزاد اظہر عرف منا بھائی، عادل صاحب اور بلال خان افضال عرف ننھا اس وقت لاپتہ ہیں۔ غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق انہیں زخمی حالت میں گرفتار کیا گیا ہے، تاہم تاحال ان کے ٹھکانے کے بارے میں کوئی سرکاری معلومات سامنے نہیں آئیں۔
سول کپڑوں میں ایجنسیوں کا گشت اور گرفتاریاں
کشمیر کے مختلف اضلاع سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق، پولیس اور خفیہ ایجنسیوں کے اہلکار سول کپڑوں اور نجی گاڑیوں پر ایکشن کمیٹی کے جھنڈے لگا کر گشت کر رہے ہیں اور موقع ملتے ہی متحرک اراکین یا عام شہریوں کو اٹھا لیتے ہیں۔
اب تک ہونے والی اہم گرفتاریوں کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
نیلم آٹھ مقام سے: وصی خواجہ، کور ممبر خواجہ انیس، صدرِ بازار رشید اعوان، اور تاجر شاہنواز کو گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
تراڑکھل سے: انجمن تاجران کے سیکرٹری جنرل عبد القدوس اور قاری نصیر کی گرفتاری کی مصدقہ اطلاعات ہیں۔
پلندری سے: کور ممبر سردار شہزاد اور صدر رکشہ یونین راجہ عناس کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ (واضح رہے کہ پلندری کے کچہری چوک کیمپ سے پولیس جب عاطف حسین اور ناصر ستی کو گرفتار کر کے لے جا رہی تھی، تو وہاں کے عوام نے مزاحمت کر کے گاڑی کو روکا اور دونوں رہنماؤں کو پولیس کی تحویل سے چھڑا لیا)۔
سہنسہ سے: جموں کشمیر لبریشن فرنٹ (JKLF) کے سینیئر رہنما کمانڈر سفیان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
راولاکوٹ میں میت رکھ کر احتجاج اور پولیس شیلنگ
آج راولاکوٹ میں سی ایم ایچ (CMH) کے گیٹ کے سامنے گزشتہ روز فورسز کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے شاہزیب حبیب کا جسدِ خاک رکھ کر شدید احتجاج کیا جا رہا ہے۔ مظاہرین کا ارادہ آج دن کو ان کی نمازِ جنازہ ادا کرنے کا تھا، تاہم پولیس نے لاش کے ہمراہ احتجاج کرنے والے نہتے شہریوں پر شدید شیلنگ کی ہے جس سے حالات مزید کشیدہ ہو گئے ہیں۔ ایکشن کمیٹی نے اردگرد کے تمام علاقوں سے عوام کو راولاکوٹ پہنچنے کی تاکید کی ہے۔
عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل
آزاد کشمیر کی تحریک سے جڑے رہنماؤں نے ایمنسٹی انٹرنیشنل، اقوامِ متحدہ اور دیگر بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک متنازع خطے میں اس بڑے پیمانے پر فورسز کی تعیناتی اور اپنے حقوق مانگنے والے شہریوں کو گولیوں سے اڑانا بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اب تک دو ہلاکتیں ہو چکی ہیں اور اگر عالمی برادری نے نوٹس نہ لیا تو حالات مزید بگڑ سکتے ہیں۔
دیارِ غیر میں احتجاج: کشمیر کمیونٹی آف ٹیکساس (USA) کا فیصلہ
پاکستان کی اس ریاستی کارروائی اور ایکشن کمیٹی پر خونی یلغار کے خلاف سمندر پار کشمیریوں میں بھی شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ ‘کشمیر کمیونٹی آف ٹیکساس، امریکہ’ نے حتمی فیصلہ کیا ہے کہ وہ 9 جون کو ٹیکساس میں موجود پاکستانی کونسلیٹ (ہیوستن) کے سامنے ایک بہت بڑا اور بھرپور احتجاجی مظاہرہ ریکارڈ کروائیں گے تاکہ عالمی سطح پر اس ظلم کو بے نقاب کیا جا سکے۔
Share this content:


