راولاکوٹ / کاشگل نیوز
پاکستان زیر انتظام جموں و کشمیر میں انٹرنیٹ سروس کی مسلسل بندش کو آج 48 دن مکمل ہو گئے، جس کے باعث طلبہ، فری لانسرز، آن لائن کاروبار سے وابستہ افراد اور عام شہری شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
انٹرنیٹ کی عدم دستیابی کے باعث تعلیمی سرگرمیاں، آن لائن کاروبار، بینکنگ، سرکاری و نجی امور اور روزمرہ رابطے متاثر ہونے کی شکایات سامنے آ رہی ہیں۔
دوسری جانب جموں و کشمیر کے عام انتخابات کے سلسلے میں مختلف سیاسی جماعتوں کی انتخابی سرگرمیاں جاری ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری بھی انتخابی مہم میں شریک ہوئے اور مختلف جلسوں سے خطاب کیا۔
انٹرنیٹ بندش کے باعث شہریوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ جب گزشتہ 48 روز سے عام صارفین انٹرنیٹ سروس سے محروم ہیں تو انتخابی جلسوں کی لائیو کوریج اور آن لائن نشریات کے حوالے سے بھی مختلف سوالات جنم لے رہے ہیں۔
شہریوں، طلبہ، فری لانسرز اور کاروباری طبقے نے مطالبہ کیا ہے کہ انٹرنیٹ سروس کو فوری طور پر بحال کیا جائے تاکہ عوام کو درپیش مشکلات کا خاتمہ ہو سکے اور تمام شہریوں کو یکساں بنیادوں پر مواصلاتی سہولیات میسر آ سکیں۔
Share this content:


