کلگری، کینیڈا (کاشگل نیوز/ویب ڈیسک)
پاکستان کے زیر انتظام آزاد جموں و کشمیر میں جاری حالیہ بحران، سیکیورٹی فورسز کے جبر، ناکہ بندی اور شہریوں کی ہلاکتوں کے خلاف کینیڈا کے شہر کلگری کے مرکزی علاقے (ڈاؤن ٹاؤن) میں ایک زبردست احتجاجی مظاہرہ منعقد کیا گیا۔
مظاہرے میں ریاست جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے تارکینِ وطن نے بہت بڑی تعداد میں شرکت کر کے محصور اور متاثرہ عوامی تحریک کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔
مظاہرے کے شرکا اور مقررین نے اپنے خطابات میں حکومت پاکستان اور پاکستانی سیکیورٹی اداروں کی پالیسیوں کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ طاقت، جبر، انٹرنیٹ کی بندش اور خوف کا ماحول پیدا کر کے ریاست کے عوام کی جائز اور پرامن آواز کو کبھی دبایا نہیں جا سکتا۔ انہوں نے اس پختہ عزم کا اعادہ کیا کہ دیارِ غیر میں مقیم کشمیری برادری اپنے لوگوں کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑی ہے اور انہیں اس مشکل گھڑی میں کبھی تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔
مقررین نے خطے کی تازہ ترین صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فورسز کی جانب سے داخلی راستوں کی بندش کے باعث آزاد کشمیر میں خوراک، زندگی بچانے والی ادویات اور معصوم بچوں کے لیے دودھ کی فراہمی میں رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں، جو کہ سراسر انسانی حقوق کی سنگین ترین پامالی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی شہری آبادی کو اس طرح بنیادی ضروریاتِ زندگی اور خوراک سے محروم کر کے محصور کر دینا تمام بین الاقوامی قوانین، جنیوا کنونشن اور بنیادی انسانی اقدار کے یکسر منافی ہے۔
مظاہرین نے بین الاقوامی برادری کو مخاطب کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اقوامِ متحدہ (UN) اور عالمی انسانی حقوق کی تنظیمیں آزاد جموں و کشمیر میں پیدا ہونے والے اس سنگین انسانی بحران کا فوری نوٹس لیں۔خطے میں فورسز کی فائرنگ سے ہونے والے شہریوں کے قتل عام اور دیگر پامالیوں کی غیر جانبدارانہ بین الاقوامی تحقیقات کرائی جائیں۔متاثرہ کشمیری عوام کے بنیادی انسانی و سیاسی حقوق اور زندگیوں کے تحفظ کے لیے فوری اور مؤثر سفارتی اقدامات کیے جائیں۔
لندن کے بعد کینیڈا کے شہر کلگری میں ہونے والے اس احتجاج سے یہ واضح ہوتا ہے کہ آزاد کشمیر میں جاری یہ بحران اب عالمی سطح پر کشمیری تارکینِ وطن (Diaspora) کی توجہ کا مرکز بن چکا ہے اور بین الاقوامی سطح پر اس کے خلاف آوازیں مسلسل تیز ہو رہی ہیں۔
Share this content:


