بھارت اور پاکستان کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر: ریاستی رویّوں کا ایک تقابلی جائزہ

تحریر: خواجہ کبیر احمد

تاریخ صرف یہ نہیں دیکھتی کہ ریاستوں نے اپنے مخالفین کے خلاف کیا اقدامات کیے، بلکہ یہ بھی یاد رکھتی ہے کہ انہوں نے عام شہریوں کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ ریاست کی اصل آزمائش صرف میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ اس وقت ہوتی ہے جب وہ اپنے ہی شہریوں کے احتجاج اور اختلافِ رائے کا سامنا کرتی ہے۔

پاکستان کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں گزشتہ تین برس سے عوامی حقوق کی ایک تحریک جاری ہے۔ جو تا حال مکمل طور پر پرامن، آئینی اور بنیادی معاشی و شہری حقوق کی جدوجہد ہے۔ اس کے مطالبات میں سستی بجلی، آٹے کی مناسب قیمت، وسائل پر مقامی حق اور عوامی فلاح جیسے نکات شامل ہیں۔ یعنی یہ تحریک، کم از کم اپنے اعلان کردہ مقاصد کے مطابق، اقتدار پر قبضے یا مسلح تصادم کے لیے نہیں بلکہ بنیادی حقوق کے لیے ہے۔

اگر ایسی صورتحال پیدا ہو جیسا کہ اطلاعات ہیں کہ اس تحریک کے دوران عوام تک خوراک، پانی اور ادویات کی رسائی عملاً منقطع ہو جائے، معمولی اشیائے خورونوش کی نقل و حرکت بھی رک جائے اور عام شہری، بچے، بزرگ اور مریض متاثر ہوں، تو یہ صرف ایک سیاسی معاملہ نہیں رہتا بلکہ انسانی حقوق کا بنیادی سوال بن جاتا ہے۔

اس صورتحال کا موازنہ بھارت کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر سے کیا جا سکتا ہے، جہاں تقریباً اڑتیس برس سے آزادی کی تحریک مختلف شکلوں میں جاری ہے، جس میں مسلح جدوجہد بھی شامل رہی۔ اس عرصے میں سخت فوجی کارروائیاں ہوئیں، طویل کرفیو نافذ ہوئے، گرفتاریاں ہوئیں، ہلاکتیں ہوئیں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں عروج پر رہیں جو ایک تلخ اور خونریز تاریخ ہے۔

لیکن اسی تاریخ کے تناظر میں ایک سوال اپنی جگہ موجود ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق ایسی کوئی واضح مثال سامنے نہیں آتی کہ ریاستی سطح پر پورے خطے میں عوام کے لیے خوراک، پانی اور ادویات کی ترسیل کو باقاعدہ طور پر مکمل طور پر روک دیا گیا ہو۔

اگر ایک ریاست تقریباً اڑتیس برس سے آزادی کی تحریک کا سامنا کر رہی ہے ، لیکن بنیادی ضروریات کی فراہمی کو اجتماعی طور پر ہدف نہیں بناتی، جبکہ دوسری طرف صرف تین برس سے جاری ایک پرامن عوامی حقوق کی تحریک کے دوران عام شہریوں کی خوراک، پانی اور ادویات تک رسائی متاثر ہوتی ہے، تو یہ تقابل کئی بنیادی سوالات کو جنم دیتا ہے۔

ریاستی طاقت کا مقصد شہریوں کی حفاظت ہونا چاہیے، نہ کہ انہیں بنیادی ضروریات سے محروم کرنا۔ احتجاج کو قانون کے مطابق منظم کرنا ریاست کا حق ہو سکتا ہے، لیکن اگر اس کے نتیجے میں مریض دواؤں سے، بچے خوراک سے اور عام لوگ روزمرہ ضروریات سے محروم ہونے لگیں تو یہ مسئلہ سیاست سے نکل کر انسانی وقار اور بنیادی حقوق کا مسئلہ بن جاتا ہے۔

یاد رہے آنیوالی نسلیں یہ نہیں پوچھیں گی کہ ریاست کتنی طاقتور تھی؛ بلکہ یہ دیکھیں گی کہ طاقت کا استعمال کس کے خلاف اور کس حد تک کیا گیا۔ یہ بھی دیکھیں گی کہ کیا ریاست نے اپنے شہریوں کو مخالف سمجھ کر ان کی بنیادی ضروریات کو دباؤ کے آلے میں تبدیل کیا، یا اختلاف کے باوجود انسانیت اور قانون کی حدود کا احترام کیا۔

آج پاکستان کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں پیدا شدہ صورتحال کو اسی تناظر میں دیکھنا ہو گا۔ عام شہریوں کی خوراک، پانی اور ادویات تک رسائی متاثر ہو رہی ہے، اس کی فوری بحالی ریاست کی اخلاقی، قانونی اور انسانی ذمہ داری ہے۔

اختلافِ رائے کو طاقت سے دبایا جا سکتا ہے، مگر بھوک، پیاس اور بیماری کو سیاسی ہتھیار بنا دینا کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے باعثِ فخر نہیں ہو سکتا۔ ریاستیں اپنی طاقت سے نہیں، بلکہ اپنے شہریوں کے ساتھ اپنے رویّے سے پہچانی جاتی ہیں۔

Share this content: