راولاکوٹ/کاشگل نیوز
پاکستان زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی کال پر جاری احتجاج، دھرنا، پہیہ جام ہڑتال اور شٹر ڈاؤن چودھویں روز بھی جاری رہا، جبکہ حکومتی سطح پر تاحال مذاکرات کے حوالے سے کوئی قابلِ ذکر پیش رفت سامنے نہیں آ سکی۔
عوامی حلقوں اور سیاسی مبصرین کے مطابق تحریک اب محض 38 نکاتی مطالبات تک محدود نہیں رہی بلکہ حالیہ واقعات اور حکومتی اقدامات نے خطے کی سیاسی صورتحال اور عوامی جدوجہد کے رخ کو نئی سمت دے دی ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ راٹھور حکومت اور اس کے اتحادیوں کے طرزِ عمل نے عوامی حقوق کی اس تحریک کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ابتدائی طور پر عوام چند بنیادی مطالبات کے ساتھ محدود مدت کی احتجاجی تحریک میں شریک ہوئے تھے، تاہم پانچ جون کی شب سے شروع ہونے والی صورتحال، پبلک ٹرانسپورٹ کی بندش، شٹر ڈاؤن، احتجاجی مظاہروں اور دھرنوں نے تحریک کو مزید وسعت دے دی ہے۔
عوامی حلقوں کا مؤقف ہے کہ جانی نقصانات، دہشت گردی کے مقدمات، پابندیوں، کرفیو، انٹرنیٹ بلیک آؤٹ اور مذاکراتی عمل میں تعطل نے حالات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ تحریک اگر وقتی طور پر ختم بھی ہو جائے تو آزاد کشمیر میں عوامی سیاسی جدوجہد اور احتجاجی تحریکوں کا ایک نیا دور شروع ہو چکا ہے۔
ان کے مطابق عوام کو طاقت کے ذریعے دبانے کی پالیسی مسائل کے حل کے بجائے مزید بے چینی اور ردِعمل کو جنم دے سکتی ہے۔
عوامی حلقوں نے گرفتاریوں، مقدمات، تنظیم کو کالعدم قرار دینے اور مختلف رہنماؤں سے ویڈیو بیانات جاری کروانے جیسے اقدامات پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے اقدامات عوامی رائے کو تبدیل نہیں کر سکتے۔
ان کا کہنا ہے کہ موجودہ بحران کا واحد قابلِ عمل حل بامقصد مذاکرات ہیں۔
مبصرین کے مطابق حالات کے تناظر میں حکومت اور عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان مذاکراتی عمل کا آغاز وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے، کیونکہ بالآخر مسئلے کے پائیدار حل کے لیے بات چیت کا راستہ ہی اختیار کرنا پڑے گا۔
Share this content:


