ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو عمر قید کی سزا سنانا انصاف، انسانی حقوق اور آزادیٔ اظہار پر سنگین حملہ ہے،جے کے پی این پی

جموں کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی (JKPNP) کے ترجمان برائے بین الاقوامی امور نے کہا ہے کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو عمر قید کی سزا سنانا انصاف، انسانی حقوق اور آزادیٔ اظہار پر ایک سنگین حملہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ریاست ظلم، جبر اور انتقامی کارروائیوں کے ذریعے حق، انصاف اور آزادی کی آوازوں کو خاموش نہیں کر سکتی۔ نام نہاد عدالتیں انصاف فراہم کرنے میں ناکام ہو چکی ہیں اور سیاسی کارکنوں، انسانی حقوق کے علمبرداروں اور مزاحمت کی آوازوں کے خلاف ریاستی پالیسیوں کا آلہ کار بن گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ بلوچ عوام کی مزاحمت، وقار اور حقِ خود ارادیت کی علامت ہیں، اور ان کے خلاف دی جانے والی سزا دراصل پورے بلوچ عوام کی جدوجہد کو دبانے کی ایک ناکام کوشش ہے۔ جبر، گرفتاریاں، تشدد اور سزائیں کبھی بھی آزادی، انصاف اور قومی وقار کی تحریکوں کو شکست نہیں دے سکتیں۔

ترجمان برائے بین الاقوامی امور نے مزید کہا کہ یہی ریاستی جبر آج آزاد جموں و کشمیر کے نہتے اور پُرامن عوام کے خلاف بھی جاری ہے۔ عوامی حقوق اور انصاف کے لیے آواز بلند کرنے والے شہریوں کو طاقت کے ذریعے خاموش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

ان کے مطابق اب تک بیس سے زائد افراد کو قتل کیا جا چکا ہے، سینکڑوں شہری زخمی ہوئے ہیں جبکہ متعدد افراد لاپتہ ہیں۔ عوامی تحریک کو دبانے کے لیے محاصروں، گرفتاریوں، تشدد اور انتقامی کارروائیوں کا سہارا لیا جا رہا ہے، مگر یہ ہتھکنڈے عوام کے حوصلے پست نہیں کر سکتے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچ عوام اور جموں کشمیر کے عوام کی جدوجہد انصاف، وقار اور بنیادی انسانی حقوق کے لیے ہے، اور تاریخ گواہ ہے کہ ریاستی جبر کے ذریعے قوموں کی آزادی اور حقوق کی تحریکوں کو ہمیشہ کے لیے دبایا نہیں جا سکتا۔ وقت ثابت کرے گا کہ حق اور انصاف کی آوازیں تمام رکاوٹوں کے باوجود بلند رہیں گی۔

انہوں نے عالمی برادری، انسانی حقوق کی تنظیموں اور انصاف پسند حلقوں سے مطالبہ کیا کہ وہ بلوچ عوام اور جموں کشمیر کے عوام کے خلاف جاری ریاستی جبر، سیاسی انتقام اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا فوری نوٹس لیں اور مظلوم عوام کے حق میں مؤثر کردار ادا کریں۔

Share this content: