وینزویلا میں ہولناک زلزلے، 32 افراد ہلاک ، ہزاروں ہلاکتوں کا خدشہ

لاطینی امریکی ملک وینزویلا میں بدھ کی شام ایک منٹ سے بھی کم وقفے میں آنے والے دو انتہائی طاقتور اور شدید زلزلوں نے تباہی مچا دی ہے، جس کے بعد ملک بھر میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے اور ہزاروں افراد کی ہلاکت کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ قائم مقام صدر نے ملک میں فوری طور پر ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔

امریکی جیولوجیکل سروے (USGS) کے مطابق زلزلے کے دو شدید جھٹکے چند سیکنڈز کے وقفے سے محسوس کیے گئے:

پہلا جھٹکا: 7.2 شدت کا زلزلہ ریاست کارابوبو میں آیا، جس کا مرکز دارالحکومت کراکس سے تقریباً 20 کلومیٹر دور تھا۔

دوسرا جھٹکا: پہلے جھٹکے کے محض 39 سیکنڈ بعد 7.5 شدت کا اس سے بھی زیادہ ہولناک زلزلہ ریکارڈ کیا گیا۔

وینزویلا کی قائم مقام صدر ڈیلسی روڈریگز نے ہلاکتوں کے پہلے سرکاری اعداد و شمار جاری کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ اب تک کم از کم 32 افراد ہلاک جبکہ تقریباً 700 زخمی ہو چکے ہیں۔ تاہم، یہ ہلاکتوں کی ابتدائی تعداد ہے اور اس میں بڑے پیمانے پر اضافے کا خدشہ ہے۔

امریکی جیولوجیکل سروے (USGS) نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ دوسرے بڑے جھٹکے کے بعد 44 فیصد امکان ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد 10,000 سے تجاوز کر جائے، جبکہ 30 فیصد امکان ہے کہ جانی نقصان ایک لاکھ سے بھی اوپر چلا جائے۔

قائم مقام صدر ڈیلسی روڈریگز نے قومی ٹیلی وژن پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے ملک میں باقاعدہ طور پر ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اپنے خطاب میں انہوں نے کہا:

"قوم کے لیے ہمارا پہلا پیغام یہ ہے کہ لوگوں کی جانیں بچانے کے لیے متحد رہیں۔”

صدر نے اعلان کیا کہ ہفتے کے باقی تمام دن ملک کے تمام تعلیمی ادارے بند رہیں گے اور ضروری خدمات (ایمرجنسی سروسز) کے علاوہ تمام تر سرگرمیاں معطل رہیں گی۔ انہوں نے تمام ڈاکٹروں اور نرسوں سے اپیل کی ہے کہ وہ زخمیوں کو طبی امداد فراہم کرنے کے لیے فوری طور پر قریبی طبی مراکز پہنچیں۔

زلزلے کے نتیجے میں وینزویلا کے مرکزی بین الاقوامی ہوائی اڈے ‘مائیکیتیا’ کو شدید نقصان پہنچا ہے، جس کے بعد اسے ہر قسم کی آمد و رفت کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ قائم مقام صدر نے تصدیق کی ہے کہ ایئرپورٹ کا ٹرمینل بری طرح متاثر ہوا ہے۔ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ زلزلے کے دوران مسافر ہوائی اڈے کی راہداریوں میں خوفزدہ ہو کر بھاگ رہے ہیں اور چھتوں سے ملبہ نیچے گر رہا ہے۔

دارالحکومت کراکس میں زلزلے کے جھٹکے اس قدر شدید تھے کہ متعدد عمارتیں زمین بوس ہو گئیں، سڑکیں ٹوٹ گئیں، بجلی کے کھمبے گرنے سے شہر میں بلیک آؤٹ ہو گیا اور موبائل سگنلز بھی معطل ہو گئے۔ تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے تلے دبے ہوئے لوگ مدد کے لیے پکار رہے ہیں۔ وزیرِ داخلہ نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ آفٹر شاکس کے خطرے کے پیشِ نظر اپنے گھروں سے باہر کھلی جگہوں پر رہیں۔

کراکس میں موجود بی بی سی کی صحافی نکول کولسٹر نے اپنے مخدوش اپارٹمنٹ سے آنکھوں دیکھا حال بتاتے ہوئے کہا:

یہ میری زندگی کا سب سے شدید زلزلہ تھا۔ کھڑکیاں اور پوری عمارت اس طرح ہل رہی تھی کہ مجھے لگا یہ مجھ پر ہی گر جائے گی۔ میں ساتویں منزل پر خود کو بچانے کے لیے دیوار اور دروازے کے درمیان چھپی رہی۔ اب باہر قریبی منہدم عمارت کے ملبے سے لوگوں کے چیخنے اور مدد کے لیے پکارنے کی آوازیں آ رہی ہیں۔”

پالوس گرانڈیس کی ایک رہائشی ماریا ایلِیس نے بتایا کہ اپارٹمنٹس کی دیواروں میں گہری دراڑیں پڑ چکی ہیں اور باہر بجلی اور مواصلات کا نظام مکمل ٹھپ ہے۔

کراکس کے معمر شہریوں کے مطابق یہ زلزلہ ماضی کے تمام زلزلوں سے کہیں زیادہ خوفناک تھا۔ 80 سالہ پنشنر ماریا رومرو نے بتایا کہ انہوں نے 1967 کا 6.6 شدت کا زلزلہ بھی دیکھا تھا جس میں 200 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے، لیکن آج کا زلزلہ اس سے کہیں زیادہ شدید اور ہولناک تھا۔

ملک بھر میں ریسکیو ٹیمیں ملبہ ہٹانے اور پھنسے ہوئے لوگوں کو نکالنے کے لیے آپریشن شروع کر رہی ہیں، تاہم بنیادی انفراسٹرکچر کی تباہی کے باعث امدادی کاموں میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

Share this content: