دھیرکوٹ/راولاکوٹ /کاشگل نیوز
پاکستان کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں جاری عوامی احتجاج کو کچلنے کے لیے پاکستانی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے چھاپوں اور گرفتاریوں کا سلسلہ تیز کر دیا گیا ہے۔
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق دھیرکوٹ کے علاقے سنگڑھ پٹھارہ میں فورسز نے مظاہرین کے خلاف ایک بڑا کریک ڈاؤن شروع کرتے ہوئے مختلف مقامات پر چھاپے مارے ہیں۔
ذرائع کے مطابق رینجرز، پیراملٹری فورسز اور پولیس کی گاڑیاں نالہ ایران کراس کرنے کے بعد کیرے پدر سے ہوتے ہوئے پٹھارہ کے مختلف علاقوں میں پہنچیں، جہاں انہوں نے متعدد مقامات پر چھاپہ مار کارروائیاں کیں۔
اگرچہ ان تازہ چھاپوں کے دوران تاحال کسی گرفتاری کی باقاعدہ تصدیق نہیں ہو سکی ہے، تاہم علاقے میں فورسز کی بھاری نفری کی نقل و حرکت اور گشت مسلسل جاری ہے جس سے شدید تناؤ اور خوف کا ماحول پیدا ہو گیا ہے۔
دوسری جانب، جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے زیرِ اہتمام پہیہ جام، شٹر ڈاؤن اور احتجاجی دھرنا اکیسویں روز بھی جاری رہا، جبکہ انٹرنیٹ کی مسلسل بندش کو پچیس دن مکمل ہو گئے ہیں۔
احتجاجی شرکاء کا کہنا ہے کہ انتظامیہ، سکیورٹی فورسز اور حکومتی اداروں کی جانب سے کیے جانے والے بدترین تشدد، گرفتاریوں، زدوکوب اور چادر و چار دیواری کے تقدس کو پامال کرتے ہوئے خاندانوں کو ہراساں کیے جانے کے باوجود عوام اپنے مطالبات سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہیں اور دھرنے بدستور جاری رہیں گے۔
فورسز کے اس سخت کریک ڈاؤن اور ناکہ بندی کے باعث پاکستان سے آنے والے تمام داخلی راستوں پر اشیائے خوردونوش اور ادویات کی ترسیل تاحال معطل ہے، جس سے پورے علاقے میں ضروری اشیاء کی قلت کا شدید بحران پیدا ہو رہا ہے۔
شہریوں اور سماجی حلقوں نے فورسز کی جابرانہ کارروائیاں فوری بند کرنے، انٹرنیٹ بحال کرنے اور اشیائے ضروریہ کی فراہمی کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
Share this content:


