پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں پولیس نے کالعدم قرار دی جانے والی جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنما شوکت نواز میر کو گرفتار کرکے لاپتہ کردیا گیا ہے۔
کشمیر کے صحافی نصیر چوہدری سے بات کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر مظفرآباد منیر قریشی نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ شوکت نواز میر کو مظفرآباد اور باغ کی درمیانی حدود سے گرفتار کیا گیا۔
ادھر ایس ایس پی مظفرآباد ریاض مغل کا کہنا ہے کہ شوکت نواز میر پولیس کو مختلف مقدمات میں مطلوب تھے اور انھیں ایک کارروائی کے دوران دھیرکوٹ کے علاقے سے گرفتار کیا گیا ہے۔
تاہم اب تک اسے کہیں بھی ظاہر نہیں کیا گیا ہے جس کے حوالے سے کہاجارہا ہے کہ وہ لاپتہ ہیں۔
یاد رہے کہ احتجاجی تحریک کے تناظر میں حکومت کشمیر نے عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دیتے ہوئے اس کے بعض مرکزی رہنماؤں کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کیا تھا۔
محکمہ داخلہ کی جانب سے چار سرگرم رہنماؤں کی گرفتاری میں مدد فراہم کرنے والوں کے لیے فی کس ایک کروڑ روپے انعام کا اعلان بھی کیا گیا۔
سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق انعامی فہرست میں شوکت نواز میر، عمر نذیر کشمیری، خواجہ مہران ارشد اور سردار امان خان شامل ہیں۔
حکومت کا موقف ہے کہ اِن رہنماؤں اور بعض دیگر افراد کے خلاف بغاوت، ریاستی اداروں کے خلاف نفرت یا اشتعال انگیزی پھیلانے، امنِ عامہ میں خلل ڈالنے، سرکاری امور میں مداخلت اور دیگر متعلقہ دفعات کے تحت مقدمات درج کیے گئے ہیں۔
دوسری جانب عوامی ایکشن کمیٹی اور اس کے حامی ان الزامات کو سیاسی انتقام قرار دیتے ہوئے مسترد کرتے ہیں اور مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ ان کی تحریک عوامی حقوق اور آئینی مطالبات کے لیے پرامن جدوجہد پر مبنی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ حکومت اختلافِ رائے کو دبانے کے لیے قانونی کارروائیوں کا سہارا لے رہی ہے۔
یاد رہے کہ کشمیر بھر میں پہیہ جام، شٹر ڈاؤن اور احتجاجی دھرنا اکیسویں روز سے جاری ہے جبکہ انٹرنیٹ کی مسلسل بندش کو 25 دن مکمل ہو گئے ہیں اور اشیائے خوردونوش کی ترسیل بھی پاکستانی فورسز نے روک دی ہے جس سے بھوک مری کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے ۔
ریاست کے مختلف علاقوں میں دھرنے جاری ہیں جن میں خواتین و بچوں کی بڑی تعداد شریک ہے ۔جبکہ فورسز نے آج دھیرکوٹ کے علاقے سنگڑھ پٹھارہ میں مظاہرین کے خلاف ایک بڑا کریک ڈاؤن شروع کرتے ہوئے مختلف مقامات پر چھاپے مارے ہیں۔
ذرائع کے مطابق رینجرز، پیراملٹری فورسز اور پولیس کی گاڑیاں نالہ ایران کراس کرنے کے بعد کیرے پدر سے ہوتے ہوئے پٹھارہ کے مختلف علاقوں میں پہنچیں، جہاں انہوں نے متعدد مقامات پر چھاپہ مار کارروائیاں کیں۔
اگرچہ ان تازہ چھاپوں کے دوران تاحال کسی گرفتاری کی باقاعدہ تصدیق نہیں ہو سکی ہے، تاہم علاقے میں فورسز کی بھاری نفری کی نقل و حرکت اور گشت مسلسل جاری ہے جس سے شدید تناؤ اور خوف کا ماحول پیدا ہو گیا ہے۔
Share this content:


