باغ/ کاشگل نیوز
پاکستان زیر انتظام جموں و کشمیر میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے کور ممبر شوکت نواز میر کو فورسز نے دھیرکوٹ کے مقام سے گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے۔
گرفتاری کے بعد مختلف حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے جبکہ عوامی ایکشن کمیٹی کے کارکنان اور حامی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ تحریک کے دوران اپنی ایک تقریر میں شوکت نواز میر نے کہا تھا کہ اگر وہ خود یا کوئی اور کور ممبر گرفتار ہو جائے یا کسی بھی قسم کا نقصان پہنچے تو اس سے تحریک پر کوئی اثر نہیں پڑنا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ تحریک کے اندر دوسری اور تیسری صف کی قیادت موجود ہے اور تمام تر توجہ عوامی مطالبات اور تحریک کے مقاصد پر مرکوز رہنی چاہیے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق کسی بھی گرفتار رہنما کی جانب سے سامنے آنے والا کوئی بیان حتمی یا قابلِ عمل تصور نہیں کیا جا سکتا۔
ان کے مطابق تحریک کے حوالے سے حتمی فیصلے وہ قیادت کرے گی جو عوام کے درمیان موجود ہے اور تنظیمی سطح پر متحرک رہے گی۔
یاد رہے کہ اس تحریک کو کمزور کرنے کے لیے مبینہ طور پر کئی رہنماؤں سے جبری ویڈیو بیانات ریکارڈ کروا کر تحریک سے لاتعلقی کا اظہار کروایا گیا تھا، لیکن اس کے باوجود خطے بھر میں لاک ڈاؤن اور احتجاج کا سلسلہ بدستور جاری ہے، جسے تاحال طاقت کے استعمال سے ختم نہیں کیا جا سکا ہے۔
Share this content:


