کاشگل نیوز ڈیسک
بھارت کے زیرِ انتظام جموں کشمیر کے پہلے وزیر اعظم اور سابق وزیراعلیٰ و رہنما شیخ محمد عبداللہ کی 1975ء کی تاریخی تقریر کا متن منظرِ عام پر آیا ہے، جس میں انہوں نے پاکستان کی کشمیر سے متعلق تاریخی پالیسیوں، 1947ء کے قبائلی حملے اور کشمیری عوام کے حقوقِ خودارادیت پر دوٹوک اور سخت موقف اختیار کیا تھا۔
1947ء کا حملہ اور خونریزی:
شیخ عبداللہ نے اپنی خطاب میں پاکستان کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اگر 1947ء میں قبائلیوں کو بھیج کر بارہمولہ اور مظفر آباد میں کشمیریوں کا قتل عام نہ کیا جاتا اور طاقت کے زور پر فیصلے مسلط کرنے کی کوشش نہ کی جاتی تو آج تاریخ اور جغرافیہ بالکل مختلف ہوتے۔
انہوں نے مظفر آباد کے رہنما ماسٹر عبدالعزیز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کا گناہ صرف یہ تھا کہ انہوں نے ہندو اور سکھ اقلیتوں کو پناہ دی تھی اور اسلام کی آڑ میں ہونے والی قتل وغارت کا مخالفت کی، مگر انہیں گولیوں سے چھلنی کر دیا گیا۔
حقِ خودارادیت اور پاکستانی تسلط پر سوالات:
شیخ عبداللہ نے واضح کیا کہ کشمیریوں نے 1931ء ہی سے اپنی تقدیر کا فیصلہ خود کرنے کا عزم کر رکھا تھا۔ "ہم نے پاکستانی نمائندوں سے کہا تھا کہ کشمیر کے فیصلے کا حق صرف یہاں کے سکھ، ہندو اور مسلمانوں کا ہے، لیکن پاکستان نے زبردستی ہماری تقدیر کا مالک بننا چاہا۔”
انہوں نے اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کا ڈرامہ رچانے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پوچھا کہ پاکستان جن اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کا ذکر کرتا ہے، کیا اس نے پاکستان کے زیرِ انتظام جموں کشمیر (آزاد کشمیر و گلگت بلتستان) میں آباد 15 لاکھ کشمیریوں کو حقِ خودارادیت یا آزادی فراہم کی ہے؟ "اگر پاکستان اپنے زیرِ قبضہ کشمیریوں کو عزت اور آزادی دیتا تو ہم ان کی نیت پر یقین کرتے۔”
وسائل پر قبضے اور استحصالی پالیسی کی نشاندہی:
شیخ عبداللہ نے پاکستان کے مقاصد کو بے نقاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو کشمیری عوام کی فلاح سے کوئی سروکار نہیں، بلکہ اسے کشمیر کے جنگلات، پانیوں اور جغرافیائی خوبصورتی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام ماضی کے جابر حکمرانوں کی طرح کسی کو بھی کشمیر کو اپنی عیش گاہ بنانے کی اجازت نہیں دیں گے۔
شیخ عبداللہ کا یہ بیان خطے میں پاکستانی ریاست کی تاریخی مداخلت اور کشمیریوں کے حقوق پر اس کے استحصالی رویے کی واضح نشاندہی کرتا ہے۔
Share this content:


