راولاکوٹ /تحقیقاتی رپورٹ/ محمد خورشید بیگ
پاکستان کے زیرِ انتظام جموں کشمیر کے ضلع باغ کی یونین کونسل چترہ ٹوپی کے علاقے کوپرا میں قائم پولیس چوکی پر پیش آنے والے ایک پراسرار مسلح واقعے نے خطے کی پہلے سے کشیدہ سیاسی و سیکیورٹی صورتحال میں سنگین سوالات جنم دے دیے ہیں۔ اس واقعے میں دو ایف سی (Frontier Constabulary) اہلکار اور ایک مبینہ حملہ آور ہلاک ہوا ہے، تاہم اندرونی پولیس ذرائع سے سامنے آنے والی معلومات نے اس واقعے کو محض ایک بیرونی حملہ قرار دینے کے سرکاری بیانیے کو شدید شکوک و شبہات کی زد میں لا کھڑا کیا ہے۔
واقعے کے بنیادی حقائق اور تضادات:
ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والے دونوں ایف سی اہلکاروں کی میتیں فوری طور پر پاکستان روانہ کر دی گئی ہیں، جبکہ مبینہ حملہ آور کی لاش کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال باغ کے سرد خانے میں سخت سیکیورٹی کے تحت رکھا گیا ہے، جہاں عام شہریوں یا میڈیا کو رسائی کی بالکل اجازت نہیں دی جا رہی۔
پولیس کے اندرونی ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر سنسنی خیز انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ ہلاک ہونے والا مبینہ حملہ آور کوئی مقامی کشمیری نہیں بلکہ ایک غیر ریاستی شخص تھا، اور اس کارروائی میں وہی طریقہ کار (Pattern) اپنایا گیا جو عموماً بلوچستان اور وزیرستان کے شورش زدہ علاقوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔
پولیس ذرائع کے انکشافات اور اہم نقطہ ہائے نظر:
حملہ آور کی پراسرار شناخت: پولیس اہلکاروں کے مطابق حملہ آور کی شناخت، چہرہ، اور پس منظر عوام سے چھپایا جا رہا ہے۔ کسی بھی عسکری واقعے میں حملہ آور کے اصل تعلقات، آمد کے راستے اور اسلحے کے ذرائع کا سامنے نہ آنا ادارے کے اپنے بیانیے پر سوالیہ نشان بن چکا ہے۔
سول کپڑوں میں مسلح عناصر اور جدید ہتھیار:
تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق بعض پولیس اہلکاروں نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ عوامی تحاریک اور احتجاجی لہر کے دوران حساس اداروں کی جانب سے ‘فالس فلیگ’ یا مخفی کارروائیوں کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ علاقے میں غیر متعلقہ اور سول کپڑوں میں ملبوس مسلح افراد کی موجودگی اور وہ جدید ہتھیار استعمال کیے جانا جو عام شہریوں کی دسترس سے باہر ہیں، اس شبہے کو تقویت دیتا ہے۔
عوامی تحاریک کو بدنام کرنے کی کوشش:
ذرائع کا الزام ہے کہ حساس ادارے عوامی احتجاج اور حقِ خودارادیت کی سویلین تحریکوں کو پرتشدد ثابت کرنے کے لیے خطے میں پرتشدد عناصر داخل کر رہے ہیں، جس سے نچلی سطح پر تعینات پولیس اور سیکیورٹی اہلکار بھی تشویش اور بے یقینی کا شکار ہیں۔
ماتحت اہلکاروں کا تحفظات اور تبادلے:
ذرائع کے مطابق باہر سے تعینات کیے گئے فورسز اہلکاروں کو یہ کہہ کر لایا جاتا ہے کہ وہ خطرناک عسکریت پسندوں کے خلاف لڑ رہے ہیں، لیکن زمینی حقائق دیکھ کر کئی اہلکار عام شہریوں پر مہلک طاقت کے استعمال سے گریز کرتے ہیں۔ جو اہلکار سچائی جاننے کے بعد سوالات اٹھاتے ہیں، انہیں فوری طور پر نامعلوم مقامات پر تبادلہ کر دیا جاتا ہے۔
ارجہ، بلوچ پلندری اور راولاکوٹ کے واقعات:
رپورٹ کے مطابق راولاکوٹ شہر میں حالیہ بدامنی، لوٹ مار اور ارجہ و بلوچ پلندری میں پیش آنے والے واقعات میں بھی ایسے ہی غیر مرئی اور نان اسٹیٹ عناصر کے ملوث ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے، جن کا عام احتجاج کرنے والے شہریوں سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
محدود اختیارات اور مقامی انتظامیہ کی بے بسی:
تحقیقاتی رپورٹ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ پاکستان کے زیرِ انتظام جموں کشمیر میں قائم مقامی سیاسی حکومت، بیوروکریسی اور پولیس انتظامیہ کے اختیارات انتہائی محدود ہیں۔ حساس اور سیکیورٹی نوعیت کے تمام اہم فیصلے راولپنڈی اور اسلام آباد کے بالادست حلقوں کی جانب سے کیے جاتے ہیں، جبکہ مقامی حکام محض ان احکامات پر عمل درآمد کے پابند ہیں۔
شفاف تحقیقات کے لیے اٹھنے والے بنیادی سوالات:
اس خونریز واقعے کے بعد عوامی و صحافتی حلقوں کی جانب سے فوری طور پر درج ذیل سوالات کے جوابات اور ایک خود مختار، شفاف بین الاقوامی و عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے:
1۔ مبینہ حملہ آور کی اصل شناخت کیا ہے، وہ کہاں کا رہائشی تھا اور باغ کے حساس علاقے تک کیسے پہنچا؟
2۔ حملہ آور کے پاس جدید عسکری اسلحہ اور گولی بارود کہاں سے آیا؟
3۔ کیا جائے وقوعہ سے ملنے والے گولیوں کے خول اور دیگر شواہد کا غیر جانبدارانہ فرانزک تجزیہ کرایا جائے گا؟
4۔ کیا ریاست اپنے بیانیے کی تصدیق کے لیے مبینہ حملہ آور کا چہرہ اور سفری ریکارڈ عوام کے سامنے لانے کے لیے تیار ہے؟
یہ واقعہ محض تین ہلاکتوں تک محدود نہیں، بلکہ خطے میں پھیلی ہوئی بے اعتمادی اور ریاستی پالیسیوں کے خلاف بڑھتے ہوئے ردِعمل کا آئینہ دار ہے۔ حقیقت کو چھپانے یا الزامات کی سیاست کے بجائے سچائی کا سامنے آنا ہی مرنے والوں اور خطے کے عوام کا بنیادی حق ہے۔
Share this content:


