پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں گیارہویں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے پہلے مرحلے کے تحت میرپور ڈویژن میں پولنگ مکمل ہو گئی، تاہم ابتدائی اطلاعات کے مطابق ووٹر ٹرن آؤٹ نہ ہونے کے برابر رہا۔
دوسری جانب مقامی صحافی دانش ارشاد کے مطابق راولاکوٹ شہر میں چاندنی چوک/قصائی گلی اور بلدیہ اڈا کے علاقوں میں دو مختلف اطراف سے شدید فائرنگ کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق فائرنگ کی آوازیں شہر سے تقریباً چھ کلومیٹر دور تک سنی گئی ہیں، جس کے باعث علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔
تاحال فائرنگ کی وجوہات، جانی یا مالی نقصان اور کسی ممکنہ گرفتاری کے حوالے سے سرکاری سطح پر کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔
یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایک جانب میرپور ڈویژن میں پولنگ کا عمل مکمل ہو چکا ہے۔
کاشگل نیوز کو موصول ہونے والے ویڈیوفوٹیجز میں کئی پولنگ اسٹیشنز مکمل سنسان نظر آئے جہاں ایک بھی ووٹر نہیں آیا جبکہ ایک ویڈیو میں بلٹ پیپر کھلے میدان پھینکے ہوئے نظر آئے ۔
ایک طرف پوراکشمیر سراپا احتجاج ہے ، متعدد علاقوں میں دھرنے جاری ، کرفیو کا نفاذ ہے اوردوسری طرف حکومت پاکستان اور عسکری ادارے اس نازک صورتحال کا فائدہ اٹھا ریاست میں غیر شفاف الیکشن کے نام پر اپنے من پسندلوگوں کو جتوانے کی کوششوں کی مشکول ہیں جبکہ عوام نے مکمل بائیکاٹ کیا ہوا ہے۔
Share this content:


