کشمیر کاز کو دفن کیا جا رہا ہے، حقوق مانگنے والوں کو غیر ملکی ایجنٹ کہنا بند کیا جائے، مولانا فضل الرحمٰن

قائدِ جمعیت مولانا فضل الرحمٰن نے پاکستان زیرِ انتظام کشمیر میں حالیہ کشیدگی، مظاہرین پر فائرنگ اور تشدد کے واقعات کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے کھلی دہشت گردی قرار دیا ہے۔

اپنے ایک بیان میں مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ ہم کشمیری عوام پر فائرنگ اور بدترین تشدد کی پرزور مذمت کرتے ہیں۔ طاقت کے نشے میں مدہوش قوتوں کی جانب سے اپنی ہی نہتی عوام پر گولیاں برسانا کھلی دہشت گردی کے مترادف ہے۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج کشمیر کاز کو عملاً دفن کیا جا رہا ہے، حالانکہ حکومتی پالیسیوں کے خلاف پرامن احتجاج کرنا عوام کا بنیادی اور آئینی حق ہے۔ کیا اب اس ملک میں عوام کو اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے کی بھی اجازت نہیں؟

قائدِ جمعیت نے ریاستی رویے پر تنقید کرتے ہوئے واضح کیاکہ ہم نے پوری کوشش کی کہ معاملہ اس نہج تک نہ پہنچے، لیکن ریاستی اداروں نے معاملے کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔ آج کشمیری عوام نے دھاندلی زدہ انتخابات کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔ آخر حقوق مانگنے والوں کو کب تک غیر ملکی ایجنٹ قرار دے کر ان کی آواز دبائی جاتی رہے گی؟

مولانا فضل الرحمٰن نے مطالبہ کیا کہ ریاست فوری طور پر ظلم و جبر کا یہ سلسلہ بند کرے اور عوام کو ان کے جائز احتجاج کا حق دیا جائے۔

انہوں نے کشمیری عوام سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس ظلم و بربریت کے خلاف اپنے کشمیری بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔

بیان کے آخر میں سربراہ جے یو آئی نے فائرنگ کے واقعات میں ہلاک ہونے والے افراد کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی اور پسماندگان و لواحقین سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا۔

Share this content: