پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں 20 فیصد کمی، سیکیورٹی خدشات اور عدالتی عدم آزادی بڑی وجہ قرار

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اعتراف کیا ہے کہ جاری مالی سال کے پہلے ماہ (جولائی 2026) کے دوران ملک میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) میں گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 20 فیصد کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

مرکزی بینک کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق جولائی میں کل 17 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کی غیر ملکی سرمایہ کاری ہوئی۔ اگرچہ جون کے مقابلے میں جولائی میں 264 فیصد کا عارضی اضافہ دیکھا گیا، تاہم سالانہ بنیادوں پر یہ نمایاں زوال کو ظاہر کرتا ہے۔

جولائی کے دوران 5 کروڑ 75 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل ہوئی، جو گزشتہ سال جولائی کے 7 کروڑ 8 لاکھ ڈالر سے کم ہے۔

اس شعبے میں 6 کروڑ 23 لاکھ ڈالر کی بیرونی سرمایہ کاری ہوئی، جو جولائی 2025 کے 5 کروڑ 88 لاکھ ڈالر سے قدرے بہتر ہے۔

30 جون 2026 کو ختم ہونے والے گزشتہ مالی سال کے دوران بھی پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری 34 فیصد کمی کے بعد محض 1.64 ارب ڈالر رہ گئی تھی۔

اگرچہ اسٹیٹ بینک نے اعداد و شمار جاری کرتے وقت اس کمی کی وجوہات کی وضاحت نہیں کی، تاہم معاشی ماہرین اور بین الاقوامی سیکیورٹی تجزیہ کاروں کے مطابق اس کے پیچھے ملک کی معاشی و سیکیورٹی پالیسیوں کی ناکامی شامل ہے۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں نظامِ عدل کی عدم آزادی اور قانونی تحفظ کے فقدان کے باعث غیر ملکی سرمایہ کار طویل الميعاد منصوبوں میں سرمایہ لگانے سے ہچکچا رہے ہیں۔

بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں مسلح گروہوں کی جانب سے سرکاری ترقیاتی کاموں اور معدنیات کے شعبوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے منصوبوں کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

عالمی مشاہدہ کاروں کے مطابق پاکستانی فوج غیر ملکی منصوبوں کو مکمل سیکیورٹی فراہم کرنے میں ناکام نظر آتی ہے، جس کے باعث نہ صرف نئے سرمایہ کار پاکستان نہیں آ رہے بلکہ پرانے سرمایہ کار بھی اپنے منصوبے سمیٹنے پر مجبور ہیں۔

اس ناگفتہ بہ صورتِ حال کا سب سے بڑا اثر بلوچستان میں جاری چینی اور کینیڈین کمپنیوں کے میگا پروجیکٹس پر پڑ رہا ہے۔ ریکوڈک اور سیندک کے سرمایہ کار بلوچ مسلح گروہوں کے متواتر مہلک حملوں، مالی نقصان اور جانی ضیاع کے باعث انتہائی تشویش کا شکار ہیں اور ان پروجیکٹس پر کام کی پیش رفت کو محدود یا مکمل بند کرنے پر غور کر رہے ہیں۔

Share this content: