مظفرآباد/ کاشگل نیوز
پاکستان زیرانتظام جموں وکشمیر کے سابق وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور نے اپنے 9 ماہ 11 دن پر محیط دورِ اقتدار کے اختتام پر پولیس کی جانب سے گارڈ آف آنر وصول کیا۔ ان کی حکومت کے مختصر دور کو سیاسی حلقوں میں مختلف تنازعات، احتجاجی تحریکوں، امن و امان کی صورتحال اور انٹرنیٹ کی طویل بندش کے حوالے سے زیرِ بحث لایا جا رہا ہے۔
ناقدین کے مطابق راٹھور حکومت کے دور میں بھمبر اور میرپور کی سگریٹ فیکٹریوں سے مبینہ کروڑوں روپے کی جعلسازیوں کے معاملات سامنے آئے، جبکہ مختلف واقعات میں 100 سے زائد اموات اور سینکڑوں افراد کے زخمی ہونے کے دعوے بھی کیے گئے۔ اسی عرصے میں ہزاروں افراد کے خلاف مقدمات کے اندراج، ریاست کے بڑے حصے میں تقریباً تین ماہ تک انٹرنیٹ کی بندش، ٹیلی فون سروس کے مسائل اور مختلف اضلاع میں مسلسل احتجاج بھی سیاسی بحث کا حصہ رہے۔
سیاسی مخالفین کا الزام ہے کہ ان حالات کے نتیجے میں ریاستی رٹ، امن و امان اور عوامی اعتماد کو شدید نقصان پہنچا، جبکہ حویلی کہوٹہ کی نشست کے انتخابی نتائج اور مبینہ ووٹوں کی جعلسازی کے الزامات نے انتخابات کو بھی متنازع بنا دیا۔ تاہم ان الزامات پر متعلقہ اداروں اور ذمہ دار فریقین کا مؤقف بھی اہم ہے۔
دورِ حکومت کے اختتام پر سابق وزیراعظم کو پولیس کی جانب سے گارڈ آف آنر دیے جانے پر سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں مختلف تبصرے سامنے آئے۔ ناقدین نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اگر یہ کارکردگی ’’شاندار‘‘ تھی تو سابق وزیراعظم کو تاحیات وزیراعظم کا پروٹوکول ملنا چاہیے۔
دوسری جانب سیاسی حلقوں میں یہ تاثر بھی پایا جاتا ہے کہ سابق وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور مستقبل میں ریاست کے صدر کے منصب کے لیے بھی سیاسی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان کے ناقدین کا کہنا ہے کہ انہیں اپنی سیاسی مقبولیت اور حکومتی فیصلوں کے عوامی ردعمل کا اندازہ لگانے کے لیے اپنے آبائی ضلع حویلی کا عوامی رابطہ دورہ کرنا چاہیے۔
رپورٹس کے مطابق سابق وزیراعظم کی حیثیت سے انہیں سرکاری سیکیورٹی اور دیگر مراعات بھی حاصل ہوں گی، جن میں پولیس اہلکاروں کی سیکیورٹی شامل ہے۔ تاہم ان سہولیات اور آئندہ سیاسی کردار سے متعلق حتمی صورتحال آنے والے دنوں میں مزید واضح ہوگی۔
Share this content:


