خیبر پختونخوا کے صوبائی وزیر فضل شکور خان اغوا

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے قریب موٹروے سے پاکستان تحریک انصاف (PTI) کی صوبائی حکومت کے وزیر فضل شکور خان کو مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر فائرنگ کے بعد حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے، جس کے بعد صوبے میں سیاسی ہیجان پھیل گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق صوبائی وزیر فضل شکور خان اپنے ڈرائیور اور ایک گن مین کے ساتھ چارسدہ سے پشاور میں پارلیمانی کمیٹی اور صوبائی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے جا رہے تھے۔ جیسے ہی ان کی گاڑی پشاور موٹروے کے ٹول پلازہ پر پہنچی تو کالے رنگ کے یونیفارم اور سادہ کپڑوں میں ملبوس مسلح افراد نے انہیں روکنے کی کوشش کی اور ان کی گاڑی کے ٹائروں پر براہِ راست فائرنگ کی۔

مسلح افراد بعد ازاں صوبائی وزیر کے ڈرائیور اور گن مین کو کچھ فاصلے پر لے جا کر چھوڑ دیا، جبکہ وزیر فضل شکور خان کو زبردستی اپنے ساتھ نامعلوم مقام کی جانب لے گئے۔ اس واقعے کی ایک ویڈیو بھی سامنے آئی ہے جسے خیبرپختونخوا اسمبلی کے ہنگامی اجلاس کے دوران باقاعدہ ہال میں چلایا گیا، جبکہ واقعہ کی ایف آئی آر کے لیے تھانہ چمکنی میں درخواست جمع کروا دی گئی ہے۔

پشاور میں سینیئر رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے صوبائی حکومت کے نمائندوں نے اسے طاقت کے زور پر سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کی کوشش قرار دیا ہے۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے واضح کیا کہ وزراء پر تشدد اور ریاستی ایجنسیوں و سیکیورٹی اداروں کا یہ غیر آئینی تحرک ان کی سیاسی تحریک اور احتجاجی مارچ کو ناکام نہیں بنا سکتا۔

واضح رہے کہ اس واقعے سے ایک روز قبل پیرامیلیٹری فورسز اور ڈریس میں ملبوس افراد نے ایک اور صوبائی وزیر شکیل احمد کو بھی اسی انداز میں فائرنگ کر کے اغوا کرنے کی کوشش کی تھی، تاہم وہ موقع سے محفوظ نکلنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔

صوبائی وزراء کو نشانہ بنانے کے یہ واقعات ایک ایسے وقت میں سامنے آ رہے ہیں جب پی ٹی آئی نے 27 ستمبر 2026 کو اسلام آباد کی جانب احتجاجی لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے۔

سیاسی و عسکری تحلیل کاروں کے مطابق ان اغوا نما کارروائیوں اور گرفتاریوں کے پیچھے ملکی فوجی اداروں، آئی ایس آئی (ISI) اور ملٹری انٹیلی جنس (MI) کا ہاتھ ہے جو وفاقی حکومت کے ساتھ مل کر 27 ستمبر کے احتجاج کو روکنے اور کے پی حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لیے آئین و قوانین سے تجاوز کر رہے ہیں۔

Share this content: