بلوچستان میں پاکستانی فورسز پر حملہ، لاشیں صحرا میں چھوڑ کر فرار

بلوچستان کے ضلع چاغی کے علاقے نوک کنڈی میں بلوچستان افغان سرحدی علاقے (ڈیورنڈ لائن) کے قریب پاکستانی فوج کے قافلے کو ایک ہلاک خیز حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے، جس میں متعدد اہلکار موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔

سرحدی ذرائع سے موصول ہونے والی تازہ ترین اطلاعات کے مطابق حملہ اتنا شدید اور غیر متوقع تھا کہ فورسز کے اہلکاروں میں شدید سراسیمگی اور بوکھلاہٹ پھیل گئی۔

حملے کے فوری بعد فورسز کے دیگر اہلکار اپنی جانیں بچانے کے لیے وہاں سے سراسیمہ ہو کر فرار ہو گئے۔

ذرائع کے مطابق فورسز کے جاتے ہوئے 13 اہلکاروں کی لاشیں تو اپنے ساتھ لے جانے میں کامیاب ہو گئے، تاہم خوف اور جلدی کی وجہ سے دو ہلاک اہلکاروں کی لاشیں جائے وقوعہ پر ہی صحرا میں چھوڑ کر نکل گئے۔

اطلاعات کے مطابق صحرا میں کھلے آسمان تلے پڑی ان لاشوں کی منتقلی کے لیے مقامی سول انتظامیہ اور ریسکیو اداروں کی ایمبولینسز کو اطلاع دی گئی اور انہیں موقع پر پہنچنے کی ہدایت کی گئی۔

تاہم، علاقے میں عسکریت پسندوں کی شدید خوف و ہراس اور سرحد پر معلق سیکیورٹی صورتحال کے باعث ایمبولینس کا عملہ اور مقامی ڈرائیور جائے وقوعہ کی طرف جانے سے صاف انکار کر رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق آخری اطلاعات آنے تک دونوں ہلاک اہلکاروں کی لاشیں صحرا کی شدید گرمی میں لاوارث حالت میں پڑی ہوئی ہیں۔

نوک کنڈی اور چاغی کے ان سرحدی علاقوں میں حالیہ دنوں میں بلوچ آزادی پسند عسکریت پسندوں کے حملوں میں نمایاں شدت آئی ہے۔ اس واقعے نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ فرنٹ لائن پر موجود فورسز شدید نفسیاتی دباؤ اور بوکھلاہٹ کا شکار ہیں، جہاں وہ اپنے ہی ہلاک شدہ ساتھیوں کو میدانِ جنگ میں چھوڑ کر پسپائی اختیار کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔

Share this content: