بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) نے نیویارک میں اقوام متحدہ کے صدر دفتر کے باہر احتجاج کرتے ہوئے بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتِ حال، جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کے واقعات پر عالمی برادری کی توجہ مبذول کرائی اور اقوام متحدہ سے ’فوری اقدام‘ کا مطالبہ کیا۔
یہ احتجاج اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر فرسٹ ایونیو پر 42ویں اور 43ویں سٹریٹ کے درمیان دوپہر 12 بجے سے سہ پہر تین بجے تک کیا گیا۔
احتجاج کے دوران مظاہرین نے بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف نعرے لگائے اور مختلف پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے۔ اس موقع پر بلوچستان میں جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کے موضوع پر ایک ٹیبلو بھی پیش کیا گیا، جس کے ذریعے ان واقعات اور ان کے متاثرین کی صورتِ حال کو علامتی انداز میں اجاگر کیا گیا۔
اس احتجاجی مظاہرے سے بی این ایم کے امریکن چیپٹر کے صدر سمیع اللہ بلوچ اور دیگر نے خطاب کیا۔
بی این ایم نے احتجاج کے دوران بلوچستان میں فوجی کارروائیوں، ہزاروں افراد کی جبری گمشدگیوں، بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماؤں، خواتین اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی گرفتاریوں اور اجتماعی سزا کے الزامات کو نمایاں کیا۔
تنظیم نے خواتین اور بچوں کو نشانہ بنائے جانے، گھروں کی تباہی اور آبادیوں کی نقل مکانی سمیت دیگر معاملات بھی احتجاج کے اہم موضوعات میں شامل کیے۔
بی این ایم نے اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے بلوچستان کی صورتِ حال پر ’خاموشی ختم کرنے‘ اور ’فوری اقدام‘ کرنے کا مطالبہ کیا۔
احتجاج میں ’ آزاد بلوچستان‘ اور جبری گمشدگیوں کے خاتمے سمیت مختلف نعرے لگائے گئے۔
یہ احتجاج اس وقت ہوا جب پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کر رہے تھے۔
بی این ایم کے مطابق نیویارک میں ہونے والا احتجاج اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر بلوچستان کے مسئلے کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کی اس کی کوششوں کا حصہ تھا۔
Share this content:


