طلباء کو سیاسی سرگرمیوں سے روکنے کے لیے جاری کیئے گئے نوٹیفکیشن کو فورآ منسوخ کیا جائے۔

0
50

پنجاب کانسٹیبلری اور فرنٹیئر کانسٹیبلری کو طلب کرنا انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ پر آمن احتجاج پر کسی قسم کا جبر کیا گیا تو طلباء تعلیم و تدریس کا عمل روکتے ہوئے مزاحمت کریں گے۔
جوائنٹ طلباء ایکشن کمیٹی تحصیل ہجیرہ کے نمائندہ اجلاس میں مقررین کا اظہار خیال۔
ہجیرہ (بیورو رپورٹ) جوائنٹ طلباء ایکشن کمیٹی تحصیل ہجیرہ نے مطالبہ کیا ہے کہ طلباء کو سیاسی سرگرمیوں سے روکنے کے لیے جاری کیئے گئے نوٹیفکیشن کو فورآ منسوخ کیا جائے، پی سی طلب کیئے جانے کا فیصلہ فوری طور پر واپس لیا جائے، سرکاری ملازمین کے خلاف انتظامی کاروائیاں بند کی جائیں اور آزادی اظہار پر پابندیوں کا سلسلہ ترک کیا جائے۔ بجلی بلات بائیکاٹ کرنے والے صارفین کے تمام بقایاجات معاف کرتے ہوئے 2 روپے 59 پیسے میں خریدی جانے والی بجلی سروس چارجز کے ساتھ سستے داموں شہریوں کو فراہم کی جائے۔ پر امن احتجاج کے حق کو تسلیم کرتے ہوئے خوف و ہراس پھیلانے، سیاسی کارکنان کی پرو فائلنگ اور تشدد کے پلان فورآ ترک کیئے جائیں۔
یہ مطالبات جوائنٹ طلباء ایکشن کمیٹی تحصیل ہجیرہ کے نمائیندہ اجلاس منعقدہ بوائز ڈگری کالج گرائونڈ ہجیرہ میں کیئے گئے۔ اس اجلاس کی صدارت جوائنٹ طلباء ایکشن کمیٹی تحصیل ہجیرہ کے جنرل سیکرٹری صائم گل نے کی۔ اجلاس میں صائم گل کے علاؤہ صدر عوامی ایکشن کمیٹی تحصیل ہجیرہ سردار ظہور، جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کے مرکزی ڈپٹی چیف آرگنائزر ارسلان شانی، عوامی ایکشن کمیٹی ڈھونگہ تیتری نوٹ کے صدر ملک صغیر، ایکشن کمیٹی ڈھونگہ تیتری نوٹ کے ترجمان عدنان ساقی، فیمیل ایکشن کمیٹی تحصیل ہجیرہ کے رہنماؤں صائمہ بتول، سمیہ بتول زوناش نیئر اور کامریڈ زوہا، نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن (نیپ) کے رہنماؤں اشتیاق گل، عبید اوبی، کامریڈ حسن، این ایس ایف (مارکسسٹ) کے رہنمائوں اوزیر فیاض، بلال اکبر، منصور مجید کے علاؤہ طلباء کمیٹی کے رہنماؤں، انس فیضی، بلال خان، اوزیفہ طاہر اور دیگر مقررین نے خطاب کیا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین کا کہنا تھا کہ طلباء پہلے دن سے عوامی حقوق تحریک کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ہم اس پر امن تحریک کو پر تشدد بنانے کی اجازت کسی صورت نہیں دے سکتے۔ پی سی کو بلانے کا مقصد پر امن تحریک کو پر تشدد بنانے کی ریاستی سازش ہے۔ ہم ریاست کے پروردہ حکمرانوں کی ہر سازش کو بے نقاب کرتے ہوئے جدوجہد کو آگے بڑھائیں گے۔
اگر تحریک کی قیادت کو گرفتاریوں کے ذریعے روکنے کی کوشش کی گئی تو طلباء تحریک کی قیادت کریں گے۔
ہم ہر چوک میں طلباء کے دھرنے دینے، تعلیمی اداروں میں مکمل تالہ بند ہڑتال سمیت مختلف آپشن محفوظ رکھتے ہیں۔
حکمران عوام کو فتح کرنے کے بجائے مطالبات تسلیم کرے

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here