جموں کشمیر میں سماجی، سیاسی آگائی مہم کا ہفتہ وار کمیون اسٹڈی کا انعقاد

پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر کے ضلع باغ میں اسٹڈی سرکل کمیٹی کی جانب سے سماجی، سیاسی آگائی مہم کا تسلسل سے چوتھا ہفتہ وار کمیون اسٹڈی کا انعقاد کیا گیا۔

اس ہفتے اسٹڈی سرکل کا عنوان ” ایکٹ 74″کے نام سے رکھا گیا۔

اسٹڈی سرکل میں شرکا کو آگہی دی گئی کہ ایکٹ محکوم اقوام پر نافذ کیا جاتا ہے تاکہ

  1. کنٹرول برقرار رکھنا: حکمران قوتیں اپنے اقتدار اور تسلط کو مستحکم کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔
  2. وسائل کا استحصال:
    حکمران طاقت کا مقصد محکوم قوم سے وسائل، محنت یا دولت نکالنا ہے۔
  3. مزاحمت کو دبانا: یہ ایکٹ اختلاف رائے کو روکنے اور نظم و ضبط برقرار رکھنے میں مدد کرتا ہے، اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ قوم پر حکمران طاقت کی گرفت ہو۔ یہ مسلط کرنا اکثر جبر کا باعث بنتا ہے، محکوم قوموں کے حقوق اور آزادیوں کو محدود کر دیتا ہے۔

عبوری آئین
عبوری آئین سے مراد عام طور پر ایک عارضی آئین ہوتا ہے جو کسی ملک کی حکمرانی میں عبوری دور میں اس کی روشنی میں سفر کرتے ہیں
مستقل آئین کا مسودہ تیار کرنے اور اسے اپنانے تک یہ ایک اسٹاپ گیپ اقدام کے طور پر کام کرتا ہے۔

اہم خصوصیات:

  1. گورننس کا بنیادی ڈھانچہ قائم کرتا ہے۔
  2. بنیادی حقوق اور ذمہ داریوں کی وضاحت کرتا ہے۔
  3. سرکاری شاخوں کے اختیارات کا خاکہ
  4. انتخابات اور قانون سازی کے لیے فریم ورک فراہم کرتا ہے۔

عبوری آئین کا مقصد حکومت کو مستحکم کرنا اور مستقل آئین کے نفاذ تک تسلسل کو یقینی بنانا ہے۔

مگر ایک ہی وقت میں ایکٹ اور عبوری آئین لکھنے کا مقصد سادہ لوگوں کو گمراہ کیا جاسکتا ہے۔اہل علم اور باشعور قومیں ان کی گہرائیوں کو سمجھنے کے بعد ایکٹ کو غلامی کی بدترین دستاویزات قرار دیتے ہیں جبکہ عبوری آئین غلامی کے دور میں قابض قوتوں کی طرف سے نافذ کرنے کا مقصد بھی وہی ہوتا ہے جو ایکٹ کا ۔چونکہ عبوری آئین قومی خود بناتی ہیں نا کے غاصب ۔اس لیے قومیں اپنی آزادی کے بعد ہی عوام کی حقیقی نمائیندگی کا اختیار حاصل کرتی ہیں ۔

اس اختیار کے بعد پہلے مراحلے پہ عبوری آئین اور بعد ازں ایک مکمل مجمہوری آئین دیا جاتا ہے جو آئین ریاست کی نوعیت تشکیل ۔سمیت معاشی سیاسی ۔سماجی ۔اقتصادی ۔عسکری۔تمدنی۔سفارتی ۔داخلی خارجی ۔معاشرتی۔ پہلؤوں سمیت دیگر اہم پہلووں کی مجموعی زمہ داری اور نوعیت کا مکمل احاطہ کرتا ہے۔مگر ہم پہ نافذ ایکٹ کو آپ عبوری کا نام دیں یا مکمل آہین لکھ دیں مگر اس کے اندر کی کہانی بدترین کالونی کی حیثیت چیخ چیخ کے بیان کرتی ہے۔

البتہ ہر باشعور اس بات کو سمجھنے کے بعد حق ملکیت حق حکمرانی کے سوال کو سامنے رکھ کے س ایکٹ کے خاتمہ کو یقینی دیکھنا چاہتا ہے۔اب اس کے خاتمہ کے دو طریقہ ہوسکتے ہیں ایک کٹھ پتلی حکمران بن کے جو اس ایکٹ کی حقیقت دیکھنے کے بعد ممکن نہیں۔اوردوسرا طریقہ غلامی کے بدترین عہد کو سمجھنے والوں کے نزدیک ایسی پارٹی کی ضرورت ہمیشہ سے موجود تھی۔ جو عوامی اعتماد کے حصول کے بعد بلند سطح کے فیصلے کر سکیں ۔مگر اس کمی کو عوامی ایکشن کمیٹی نے عوامی حمایت و ہمدردی کی صورت میں پورا کیا ۔

اب عوامی اعتماد کی بنیاد پر درست رائنمائی اور بلند سطح کے فیصلے کرنے کی ضرورت ہے۔ فلحال وہ صلاحیت موجود نہیں جس کی قوم اور وقت کو ضرورت ہے اس لیے سوالیہ نشان ہے ؟؟؟ جبکہ تیسرا راستہ ارتقاء کے حوالے کرکے تماشائی بننے کے سوا کچھ نہیں۔

ایکٹ 74 ایک طویل مکالمے کا تقاضا کرتا ہے اس لیے اس کو چار یا اس سے زائد حصوں میں تقسیم کرکے سرکل کا تسلسل جاری رکھا جاہے گا۔

Share this content: